Chapter 6: قسط 6

کیا بات ہے تم تو بڑی جلدی اٹھ گئے مجھے لگا کہ آج تمہاری صبح گیارہ بارہ بجے ہو گی۔ وہ نیچے آیا تو آدیان بھی کمرے سے اسے وقت مسجد کے لیے نکلا اور اسے دیکھ کر اس کے پاس آتا اپنا کندھا اس کے کندھے سے مارتے شرارتی انداز میں بولا جبکہ اس کی بات سن کر زیام نے بنا کسی دیری کے اس کی کمر پر رکھ کر زور دار مکہ مارا تھا۔

بکواس نہ کرو زلیل انسان۔ حقیقت سے تم بھی واقف ہو کہ مجھے وہ ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ وہ اریش کو سوچتا بر ے برے منہ بنا کر بولا تو آدیان کو برا لگا۔ جو بھی ہو پہلے چاہے بری لگتی تھی پر اب وہ تمہاری بیوی ہے کم سے کم اب تمہیں یہ نہیں کہنا چاہیے خاص کر کسی دوسرے انسان کو۔

کیونکہ اب وہ تمہاری عزت ہے اور اگر تم اس کے بارے میں کسی کے سامنے برا بولو گے تو اپنی ہی عزت پر بات کرو گے۔ آدیان اس کے ساتھ چلتا ہوا اسے سمجھانے لگا جس پر زیام نے کان بھی نہیں دھڑے تھے کیونکہ کون سا وہ اس کی ہمیشہ سے عزت رہنے والی تھی۔

* * *

وہ نماز پڑھ کر واپس آیا تو کمرہ خالی تھا۔ یہ کہاں گئی اتنی صبح؟؟ اس نے کمرے میں ایدھر ادُھر نظریں دوڑاتے خود سے پوچھا۔ خیر جہاں مرضی جائے میری بلا سے شکر ہے بیڈ تو خالی ہوا اب میں آرام سے کچھ دیر سو سکتا ہوں۔ وہ بنا کپڑے چینج کیے بیڈ پر منہ کے بل گرتا بولا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں نید اس پر مہربان ہوتی اسے خواب نگری میں لے گئی تھی۔ رمل بچے نماز پڑھ لی؟؟

وہ کچن سے پانی پی کر نکلی تو نوشہ بیگم نے پوچھا۔جی چاچی پڑھ لی ہے۔ میں بس پانی پینے آئی تھی۔ وہ مسکرا کر بولی۔ اچھا مجھے تمہیں کہنا تھا کہ شام کو جب تم اریش اور ابرش کے ساتھ پالر جاؤ تو انہیں پالر چھوڈ کر تم زابر کے سا تھ جا کر ابرش کے ڈریس کے ساتھ میچنگ ہیل لے آنا۔ پرسوں جلدی جلدی میں اس کا ڈریس تو لے آئی تھی میں مگر ہیل لانا بھول گئی اور پھر کل ٹائم نہیں ملا مجھے مال جانے کا۔ تم کر دو گی نہ میرا یہ کام؟؟

انہوں نے پوچھا۔ جی چاچی میں کر دوں گی اور آپ کو پوچھنا نہیں چاہیے بس حکم کرنا چاہیے کیونکہ آپ مجھ سے بڑی ہیں۔ وہ پیار سے ان کے گلے میں باہیں ڈال کر بولی تو انہوں نے اس کو دعائیں دیتے اس کا ماتھا چوما۔ اچھا میں ابھی کمرے میں جا رہی ہوں مجھے نید آرہی ہے۔ وہ اپنی جمائی روکتی بولی تو نوشہ بیگم نے سر ہلایا جبکہ وہ سیڑ ھیوں کی جانب بڑھ گئی کیونکہ اریش کا کمرہ اوپر تھا اور وہ اریش کے کمرے میں رہ رہی تھی۔

ابھی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ اندر کا منظر دیکھ اس کے قدم رک گئے۔ اس نے حیران اور پریشان نظروں سے بیڈ پر ایک دوسرے کے گلے لگے اریش اور زابر کو دیکھا۔

زاری مجھے نہیں پتا مجھے نہیں رہنا اس کھڑوس کے ساتھ مجھے میرے کمرے میں رہنا ہے۔ وہ روندو انداز میں بولی تو زابر نے اس کی کمر تھپتھپائی۔ ہائے میری چوہیا میں خود ابرش باجی کو برداشت نہیں کر سکتا مگر کیا کروں مجبوری ہے۔

یار آخر یہ ہم دونوں کے ساتھ ہی کیوں ہوا؟؟؟ ہم دونوں تو اتنے خوش تھے ان کی شادی کی خبر پر کہ ہماری ان سے جان چھوٹے گی مگر دیکھو نہ خاندان کے دونوں کھڑوس ہمارے پلے پر گئے۔ زابر تو اب نکاح میں ہے وہ تمہارے۔ اریش نے اس کے باجی کہنے پر کہا۔

کیا کروں منہ پر پک گیا ہے تم کیا زیام لالا کو نام سے بلانے لگ گئی ہو؟؟ زابر نے اس سے دور ہوکر تجسس سے پوچھا جس پر اس نے نہ میں گردن ہلائی۔ نہیں تو میں بھی انہیں لالا ہی بلا رہی تھی پر صبح میں نے ان کو چاچی کا بیٹا کہا۔ اریش نے فخر سے بتایا جیسے بہت اچھے نام سے بلایا ہو۔ واہ یار یہ سہی ہے میں بھی اسے چاچی کی بیٹی یاں زیام لالا کی بہن کہوں گا۔

زابر بھی اریش کا بھائی تھا اسی لیے اس کے طریقے سے ئر ہوتا بولا جبکہ رمل کہ اخیر ہوئی تھی اور ان اس کی ہسی چھوٹ گئی۔ اس کے ہسیے پر ایک دوسرے سے باتوں میں مگن اریش اور زابر اس کی جانب متوجہ ہوئے۔ ارے رمل تم کب آئی؟؟ زابر بیڈ سے کھڑا ہوتا بولا۔ بس تبھی آئی جب آپ دونوں ۔ وہ ہسی ایک دوسرے سے اپنا دکھ بانٹ رہے تھےے ہوئے کہتی بیڈ پر جا کر بیٹھی۔

تم تو سب جانتی ہو کہ ہم لوگ بلکل بھی خوش نہیں اس شادی پر۔ اریش نے اس کے کندھے پر سر رکھے کہا۔ اچھا تم دونوں باتیں کرو میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں۔ زابر ان سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔ چلو ہم بھی سو جائیں ابھی نید آرہی ہے مجھے۔ اریش رمل کے کندھے سے سر اٹھا کر بیڈ پر سیدھی ہو کر لیتی بولی تو رمل نے اسے حیران ہو کر دیکھا۔

کیا مطلب؟؟ تم یہاں سو گی؟؟ اس نے پوچھا۔ ہاں میں یہیں سوں گی اور پلیز سوال جواب مت کرنا مجھ سے آجاؤ تم بھی لیٹ جاؤ اور سو جاؤ۔ اریش نے لحا ف اپنے چہرے تک اوڑھتے کہا جبکہ رمل کچھ دیر اسے دیکھتی رہی اور پھر دوسری جانب جا کر لیٹ گئی کیونکہ نید تو اسے بھی آرہی تھی۔

* * *

رمل بچے آپ جا کر جوتا پسند کرو میں زرا کال کر کے آتا ہوں۔ وہ دونوں اریش اور ابرش کو پالر چھوڈ کر جوتا لینے آئے تھے جبکہ مال کے اندر داخل ہوتے ہی زابر کا فون رنگ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ رمل کو جانے کا کہتا خود فون کان پر لگائے واپس باہر نکل گیا تھا۔ اللہ جی میں اکیلی کیسے جوتا لوں گی؟؟ مجھے تو پتا بھی نہیں ہے کہ جوتے ملیں گے کہاں؟؟ وہ پریشانی سے گول گو ل گھومتی پورے مال کو دیکھتے خود سے بولی۔ مجھے لگتا ہے وہ دکان جوتوں کی ہے۔ اس نے سامنے ایک دکان پر جوتوں کا پوسٹر دیکھا تو خود سے بڑبڑاتی آگے بڑھی مگر تبھی کسی کا کندھا اس کے کندھے سے ٹکرایا تھا جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں پکڑا فون نیچے گر گیا تھا۔ آفاللہ جی میرا فون۔

فون نیچے گرنے پر اس کا دل دہل گیا تھا اس لیے فوراً سے پہلے نیچے جھک کر فون اٹھاتی بولی۔ معاف کریے گا محترمہ میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا۔ اپنے پاس سے کسی کی بھاری مردانی آواز سن کر رمل کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔ کیا آپ کا فون ٹھیک ہے؟؟ پھر سے وہی آواز آئی تو اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں ایک خوبصورت نوجوان کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا شکل و صورت سے تو وہ پٹھان لگ رہا تھا جبکہ اس کے نظریں اٹھانے پر سامنے کھڑا ازقان کچھ پل کے لیے تھم گیا تھا۔

یہ نقاب سے جھلکتی آنکھیں اسے یوں لگا جیسے اس نے ان آنکھوں کو کہیں دیکھا ہو۔ کوئی بات نہیں اٹس اوکے اور میرا فون بھی ٹھیک یے شکریہ پوچھنے کے لیے۔ اس نے اپنی میٹھی اور ہلکی آواز میں کہا۔ کیا آپ پٹھان ہیں؟؟ ازقان نے اس کے بولنے پر پوچھا کیونکہ اس کا لہجہ پٹھانوں جیسا تھا۔ آپ سے مطلب؟؟

میں کسی بھی ایرے غیرے کے ساتھ آپنی کاسٹ ڈسکس نہیں کرتی۔ وہ اب تھوڑے روڈ لہجے میں کہتی اس کی سائیڈ سے گزر گئی جبکہ ازقان اس چھوٹی سے لڑکی کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔ پٹھان ہی تھی تبھی اتنا غصہ تھا۔ وہ ہس کر خود سے بولا اور آگے بڑھ گیا۔

ابكچلی یہ مال اس کا اپنا تھا ا ور وہ کبھی کبھار مال کا چکر لگا لیتا تھا اور آج وہ بہت غصے میں منیجر کی خبر لینے آیا تھا کیونکہ اسے پتا چلا تھا مر اچھے سے کام نہیں کر رہا۔ مگر اس چھوٹی سی لڑکی سے مل کر اس کا موڈ فریش ہو گیا تھا۔

* * *

ولیمے کا فيگش چکا تھا اور وہ چاروں سٹیج پر اپنی سڑی ہوئی شکلیں لے کر بیٹھے تھے جبکہ ان کے ن شروع ہو چہروں کی بیزاری کو دیکھ کر بی جان کو بہت غصہ آرہا تھا۔ تم چاروں کے ساتھ مسلہ کیا ہے؟؟ مہندی اور بارات پر بھی تم چاروں نے ایسے ہی منہ بنا رکھے تھے۔ کم سے کم آج کے دن تو شکلیں سہی کر لو ورنہ رشتے دار کیا کہیں گے؟

کتنی باتیں بنائیں گے وہ کہ لگتا ہے زبردستی شادی کروا دی ممتاز نے۔ بی جان ان کے پاس جا کر انہیں گھورتی بولیں تو زیام نے ان کی بات پر آئی برو اچکائی۔ کہیں گے تو وہ سچ ہی بی جان کیونکہ زبردستی تو ہم چاروں کے ساتھ ہوئی ہے اور ہم خوش نہیں ہیں شادی سے مگر صرف آپ لوگوں کی وجہ سے یہ شادی کر رہے ہیں۔

وہ بولا تو بی جان نے اسے گھورا۔ زیام خان میرے سامنے زبان مت چلاؤ بی جان ہوں میں تم لوگوں کی ۔ تم لوگوں کا بہتر ہی سوچتی ہوں اج نہیں تو کل تم لوگ یہ بات خود کہو گے۔ چلو اب تم چا روں اپنا منہ سیدھا کرو خبردار جو اب تم لوگوں نے اپنے چہرے لٹکائے تو۔ وہ انہیں وارن کرتے ہوئے بولتیں سٹیج سے اتر گئیں جبکہ وہ چاروں آنکھیں گھما کر رہ گئے۔

مجھ سے نہیں بیٹھا جا رہا یہاں میں جا رہا ہوں۔ زیام بی جان کے جانے کے بعد تپے ہوئے لہجے میں بولا تو اریش نے کندھے آچکا دیے جیسے اس کی بلا سے جو مرضی کرے۔ وہ ابھی کھڑا ہونے ہی لگا تھا کہ تبھی اس کی نظر ہال کے داخلی دروازے سے اندر آتی علشيہ پر گئی جس کے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا بڑا سارا بکے تھا اور وہ مسکراتے ہوئے ان کی جانب آرہی تھی۔

اسے دیکھ کر زیا م تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا تھا۔ شادی کی بہت بہت مبارک ہو ڈئیر فرینڈ۔ وہ بکے اسے پکراتی مسکراتے ہوئے بولی تو زیام کچھ دیر پہلے گئے کومے سے باہر آیا تھا۔ شکریہ ویسے مجھے بلکل نہیں لگا تھا تم آج بھی آؤ گی۔ وہ بکے پکر کر غیر اردای طور پر اسے اریش کو پکڑ ا گیا جبکہ وہ حیرانگی سے کبھی زیام کو دیکھتی تو کبھی علشيہ کو۔

زابر اور ابرش تو کیمرے مین کے ہتے چڑھے ہوئے تھے اور اس کے کہنے پر نا چاہتے ہوئے بھی فوٹو شوٹ کروا رہے تھے۔ بس یار کل بزی تھی تبھی نہیں آسکی بارات پر مگر دیکھو آج آگئی کیونکہ میرے دوست کی شا دی تھی ویسے بیوی تو بہت پیاری ہے تمہاری۔

ہائے ڈئیر کیسی ہو؟؟ وہ پہلے مسکراتے ہوئے زیام سے بولتی پھر اریش سے مخاطب ہوئی جس نے اس کے پوچھنے پر مسکرا کر سر ہلایا۔ میں ٹھیک آپ کیسی ہیں؟؟ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ میں؟؟ میں تو بہت پیاری ہوں۔ وہ ہس کر بولی تو ا ریش کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ کیا تم ساری رات سوئی نہیں ؟؟

طیعیٹ ٹھیک ہے تمہاری؟؟ زیام جو اسے دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھتا بولا جو ہلکی ہلکی لالا ہوئی پڑی تھیں جبکہ اس کے فکرمندی سے پوچھنے پر علشيہ کو ارمغان کی بات پر یقین ہوا تھا۔ پہلے ٹھیک نہیں تھی مگر اب بلکل ٹھیک ہوں۔

خیر اب میں چلتی ہوں مجھے ائیرپورٹ جانا ہے میں تمہیں اسلام آباد میں ملوں گی کیونکہ ابھی میری کچھ دیر تک فلائٹ ہے نیو ڈرامے کی شوٹنگ ہے اور ایز اے میک اپ آرٹسٹ مجھے کہا گیا ہے۔ وہ اپنے موبائل پر ٹائم دیکھتے بولی اور پھر جلدی سے سٹیج سے اتر گئی جبکہ زیام اس کے پیچھے ہی گیا تھا۔ اوہو لگتا ہے اسے ہی پسند کرتے تھے مسٹر کھڑوس۔ ہے تو بہت پیاری مگر پھر اسے پرپوز کیوں نہیں کیا تھا انہوں نے؟؟ اریش پھولوں کے بکے کو ناک کے پاس کرتے اس کی خوشبو لیتی پرسوچ انداز میں خود سے بڑبڑائی۔

* * *

رکو علشيہ میں تمہیں چھوڈ آتا ہوں آئیر پوٹ اکیلی کیسے جاؤ گی۔ وہ ہال سے باہر نکلی تو زیام پیچھے سے اسے پکارتا بولا جبکہ اس کی پکار پر وہ پیچھے پلٹی۔ ارے نہیں یار میں ٹیکسی سے چلی جاؤں گی تم اپنا ولیمہ انجوائے کرو۔ اس نے مسکر ا کر انکار کیا۔

چلو میں چھوڈ آتا ہوں تمہیں اتنی رات کو اکیلے جانا سہی نہیں۔ وہ اسے کہتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھنے لگا ۔ رکو زیام تم سے کچھ پوچھنا ہے۔ علشيہ نے اسے روکا۔ کیا تم مجھے پسند کرتے ہو؟؟ اس نے تھے کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ زیام کا ا بھی خود کی فکر کرنا دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ وہ ابھی بھی اسے ویسے ہی چاہتا ہے۔

زیام جو اس کے روکنے پر واپس اس کے پاس آیا تھا اس کے سوال پر کچھ دیر کے لیے کچھ بول نہ سکا۔ بولو نہ جواب دو کہ کیا تم مجھے پسند کرتے ہو؟؟ اس نے سوال دہرایا۔ ہاں میں تمہیں پسند کرتا ہوں اور میں تمہیں پرپوز بھی کرنے والا تھا مگر اسی دن تم نے مجھے بتایا کہ تم ارمغان کو پسند کرتی ہو اسی لیے میں پیچھے ہٹ گیا ورنہ آج اریش کی جگہ تم بیٹھی ہوتی اور میرے چہرے پر بےزاری کے بجائے خوشی اور مسکراہٹ ہوتی۔

وہ اسے دیکھتا اپنے جزبات بتا گیا تھا جبکہ اس کا جواب سن کر علشيہ بنا دیری کے اس کے گلے لگ گئی تھی ۔ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟ تمہیں پتا ہے ارمغان مجھے پسند نہیں کرتا۔ وہ روتے ہوئے بولی جبکہ اس کے گلے لگنے اور رونے پر زیام کو سمجھ نہ آیا وہ کیا کرے۔ چپ کرو علشيہ پلیز رو مت۔ وہ اس کی کمر پر تھپکی دیتا بولا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہیں کھو دیا۔ وہ دور ہو کر آنسوؤں کو پونچھتے بولی۔ چلو تمہیں ائیرپورٹ چھوڈ آؤں۔ وہ اسے کہنا چاہتا تھا کہ نہیں تم نے نہیں کھویا ابھی بھی میں تمہارا ہوں مگر یہ بات کہے بنا وہ اسے ساتھ آنے کا کہتا گا ڑی کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ اپنا چہرہ اچھے سے صاف کرتی اس کے پیچھے چل پڑی۔

* * *

اوئے کیمرے والے زرا میری اور میرے بھائی کی تصویریں بناؤ اور اچھی اچھی بنانا۔ اریش جب اکیلے بیٹھے بیٹھے بور ہو گئی تو خود ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر کیمر ہ مین کے پاس جا کر بولی جبکہ اس کے یوں بے شرموں کی طرح سٹیج سے اٹھ کر کیمرہ مین کے پاس جا کر اونچی آواز میں بولنے پر بی جان اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں تھیں۔

ابرش باجی آپ تھک گئی ہوں گی پک بنوا بنوا کر اس لیے آپ بیٹھ کر آرام کرو۔ وہ ابرش سے بولی جبکہ ابرش تو خود فوٹو شوٹ ختم ہونے کی دعا کر رہی تھی اس لیے فوراً سر ہلاتی سٹیج کی جانب بڑھ گئی۔ تم نہ بس پک بناؤ ہماری پوز ہم خود بنا لیں گے۔

کیمرہ مین نے پوز بتانے کے لیے ابھی منہ کھولا ہی تھا کہ اریش نے اسے پہلے ہی چپ کروا دیا اور پھر زابر کی جانب دیکھ کر مسکرائی جبکہ اس کی مسکراہٹ پر وہ بھی مسکرایا۔

تمہیں کوئی کام نہیں ہے اپنے گھر پر؟؟ جب دیکھو میرے ہوسٹل پہنچی ہوتی ہو۔ وہ چائے کے دو کپ ٹرے میں رکھ کر کمرے میں لاتی افسین سے بولی جس پر اس نے بنا برا منائے آگے سے دانت نکال کر جلدی سے چائے کا ایک کپ اٹھایا تھا۔ کیا کروں میری جان میرا دل ہی یہاں لگتا ہے۔

اور جب سے دادا جان اپنے آبائی گاؤں گئے ہیں میرا تو گھر میں دل گھبراتا ہے۔ وہ شروع میں مسکرا کر کہتی آخر میں تھوڑی اداس ہو گئی۔ تو بہن ایسا کر تو اپنا سامان اٹھا کر یہاں آجا روز روز آنے سے بہتر ہے کہ تو ایک ہی بار یہاں شفٹ ہو جا۔ وہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتی بولی۔

یار میرا بھی یہی دل کرتا ہے مگر کیا کروں میری موم اور ڈیڈ دونوں اپنے بزنس ٹرپ اور پارٹیز میں بزی ہوتے ہیں ان کے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے مگر اگر میں گھر سے کہیں باہر رہنے کی بات کروں تو وہ دونو ں میرے سر پر گارڈ سوار کر دیتے ہیں اور مجھے اس چیز سے نفرت ہے۔

وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی تو اردل کو اس کے لیے برا لگا۔ چل آج رات میرے پاس رک جا کل مجھے کام سے چھٹی ہے تو ہم دونوں آج رات مل کر موویز دیکھیں گے۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تو ا فسین کے چہرے پر مسکراہٹ نے پھر سے بسیرا کیا۔ ڈن کر ویسے بھی بابا لوگ بھی آج صبح یورپ گئے ہیں تو میں گھر اکیلی رہ کر کیا کروں گی۔

وہ خوشی سے بولی تو اردل ہس پڑی۔ اگر تمہارے موم ڈیڈ کو آئے روز یورپ ہی جانا تھا تو پھر پاکستان واپس کیوں ائے؟؟ اردل نے شروع سے دماغ میں چلتا سوال پوچھا۔ دادا جان کے کہنے پر کیونکہ انہیں پاکستان یاد آتا تھا۔ افسین کے جواب پر وہ سر ہلا کر رہ گئی۔

* * *

کچھ دن اور رک جاتے لالا گھر میں رونق لگی ہوئی تھی۔ ایک تو اتنے عرصے بعد آتے ہیں اور وہ بھی تین چا ر دن کے لیے۔ ولیمے سے اگلے دن ہی دا جان لوگ جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے اور اس وقت زابر احسان اور عدنان خان کے علاؤہ سب لوگ انہیں گاڑی تک چھوڈنے آئے تھے تبھی بی جان دا جان کے گلے لگتی بولیں۔

ممتاز رہنے کو رہ جاتے مگر گھر جانا بھی ضروری ہے۔ رمل کے بھی پیپر ز ہونے والے ہیں اور آدیان کو بھی قبیلے کے فیصلے دیکھنے ہوتے ہیں۔ وہ بی جان کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے۔ چلیں آپ کی مرضی اگلی بار میں نے جلدی جانے نہیں دینا آپ کو۔ وہ بھائی کے جانے پر آنکھوں میں آئے آنسوں کو صاف کرتی بولیں۔

ٹھیک ہے بھئی بلکہ اب تو آدیا ن کی شادی کرنے والا ہوں میں تو تم سب لوگ بھی آنا اب وہاں رونق لگائیں گے۔ دا جان آدیان کو دیکھتے بولے جس پر اس نے منہ بنایا۔ جی دا جان ہم ضرور آئیں گے آپ جلدی سے لالا کی دلہن ڈھونڈیں۔ اریش خوشی سے چہکی جس پر دا جان مسکرائے مگر آدیان نے اسے فرضی گھوری سے نوازا۔ بس اب بچوں کی خوشیاں ہی دیکھنی ہیں ہم نے۔ اب بس اللہ میرے زابر اور زیام کی خوشی مجھے دیکھا دے۔

بی جان سینٹی ہوتیں بولیں جبکہ ان کی بات پر اریش کے کانوں سے دھواں نکلنے لگ گیا تھا اور ابرش کا موڈ پھر سے خراب ہو گیا تھا۔ اریش جلدی جاؤ اپنی چادر لے کر آو ڈاکٹر کے پاس چلیں تمہاری ڈیلیوری کا وقت ہو رہا ہے۔ زیام ایک دم سے اریش کو دیکھتا بولا تو اریش سمیت سب لوگوں نے اسے ناسمجھی سے دیکھا مگر جیسے ہی بات سمجھ آئی سب سے پہلے آدیان کا قہقہ بلند ہوا تھا۔

اریش تو نظریں اٹھانے سے بھی گئی تھی۔ کچھ شرم کرو زیام بڑوں کے سامنے ایسے کہتے ہیں؟؟ بچی کو شرمندہ کر دیا۔ نوشہ بیگم اسے گھور کر بولیں۔ ہاں تو بی جان کو بھی خیال کرنا چاہیے نہ۔ کل ابھی شادی ہوئی ہے اور انہیں بچے بھی چاہیے۔ وہ کون سا نوشہ بیگم کی ڈانٹ پر شرمندہ ہوا تھا الٹا بی جان کی غلطی بتانے لگا جبکہ اریش آخر وہاں سے چلی ہی گئی تھی۔

ایک تو اس کا زاری بھی گھر نہیں تھا ورنہ اس کو زیام کی شکایت لگاتی۔ ہاں وہ کچھ نہ کر سکتا تھا مگر اریش کا دل تو ہلکا ہو جاتا تھا زیام کی شکایت لگا کر۔ اچھا جی ہم لوگ چلتے اب دیر ہو رہی ہے آپ لوگ اندر جا کر اچھے سے اس بےشرم کی کلاس لینا۔ بی جان زیام کو ڈانٹنے لگیں ہی تھیں کہ آدیان ایک دم سے بولا جس پر بی جان چپ کر گئی تھیں۔

* * *

کہاں تھے تم سارا دن؟؟ وہ کمرے میں آیا تو ابرش اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوتی پوچھنے لگی۔ اس کے سو ال پر زابر نے اسے حیران ہو کر دیکھا۔ ابرش باجی میرا مطلب زیام لالا کی بہن آپ مجھ سے ایسے کیوں پوچھ رہی ہیں؟؟ بھول گئیں کیا کہ میاں بیوی کا دیکھاوا سب کے سامنے کرنا ہے کمرے میں نہیں۔

زابر نے اسے یاد دہانی کروانی چاہی مگر آگے سے ابرش کہ گھورتی نظروں نے اس کی بولتی بند کی تھی۔ سب کو بتا کر جانا تھا کہ کہاں جا رہے ہو کیونکہ سارا دن سب نے مجھ سے پوچھ پوچھ میرا دماغ خراب کیا ہوا تھا۔ حد ہوگئی مجھ سے تو اب سوال ایسے پوچھے جاتے ہیں جیسے تم میرے کہنے پر ہی سب کرتے ہو۔ وہ غصے سے بولتے ہوئے اس کی سائیڈ سے ہو کر کمرے سے نکل گئی جبکہ پیچھے زابر اس کے غصہ ہونے کی وجہ نہ سمجھ سکا۔ اور سنو کل سے بابا اور چاچو کے ساتھ آفس جانا شروع کرو میں نہیں چاہتی اب مجھے اس بات کا بھی طعنہ پڑے کہ تمہارا شوہر آفس نہیں جاتا۔

وہ سر جھٹک کر ڈریسنگ روم کی جانب ابھی دو قدم ہی بڑھا تھا کہ ابرش واپس کمرے میں آکر اس سے بولی اور پھر سے بنا اس کو بولنے کا موقع دیتے کمرے سے نکل گئی۔ کیا مصیبت گلے ڈال دی ہے بی جان آپ نے۔

اچھی بھلی زندگی چل رہی تھی اور آپ نے اس زندگی پر اس ابرش نامی چڑیل کا سایہ ڈال دیا۔ وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتا بی جان کے تصور سے مخاطب تھا کیونکہ سامنے جا کر کہنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔

* * *

واپس جا رہے ہو آج؟؟ وہ اپنا سوٹ کیس اٹھا کر نیچے آیا تو بی جان اسے دیکھ کر بولیں۔ جی بی جان دو تین کنسرٹ ہیں اور فوٹو شوٹ کا کام بھی پینڈنگ پڑ ا ہے اس لیے جانا ضروری ہے۔ اس نے تحمل سے جواب دیا۔ اچھا ٹھیک ہے مگر اریش کہاں ہے اور اس کا سامان کہاں ہے؟؟

بی جان نے اریش کو ڈھونڈنے کے لیے نظریں ایدھر ادھر دوڑائیں۔ اریش کا سامان کیوں؟؟ وہ تو یہیں رہے گی میں اسے ساتھ نہیں لے جا رہا۔ وہ بولا۔ کیا مطلب یہاں رہے گی؟؟ وہ بھی تمہارے ساتھ جائے گی بلاؤ اسے اور اسے کہو اپنی پیکنگ کرے۔ بی جان نے اسے گھور کر کہا۔

بی جان یار اس کا وہاں کیا کام ہے یہیں سہی ہے وہ سب کے ساتھ وہاں بور ہو جائے گی۔ زیام نے بہانہ بنایا۔ کیوں کوئی کام نہیں اس کا وہاں؟؟ بیوی ہے وہ تمہاری اور شوہر کے ساتھ رہنا ہی بیوی کا سب سے بڑا کام اور فرض ہے رہی بات بور ہونے کی تو اس کا اڈمیشن وہاں کی یونی میں کروا دینا پھر بور نہیں ہو گی اور اب مجھے کچھ نہیں سننا جو کہا وہ کرو۔

بی جان اس کا بہانا رد کرتی بولیں جس پر زیام نے پھر سے احتجاج کرنا چاہا مگر انہوں نے اسے پہلے ہی روک دیا۔ کیا ہے یار بی جان آپ نے ضرور اسے وہاں اڈمیشن دلوانا ہے جبکہ وہ یہاں پر آسانی سے پڑھ رہی ہے۔

وہ رونے والا ہوا تھا۔ زیام خان میں نے جو کہا ہے وہ کرو جاؤ اسے بلاؤ اور اس کی پیکنگ کروا۔ بی جان نے لہجہ اور سخت کرتے کہا تو اسے نا چاہتے ہوئے بھی اریش کو بلانے جانا پڑا۔