ابرش آپی میرا پرسوں تھرڈ سمسٹر کے فائنل کا پہلا پیپر ہے پلیز میری تیاری کروا دیں۔ وہ ابرش کے کمرے میں کتابیں اٹھا کر لے آتی بولی تو شیشے کے سامنے تیار ہوتی ابرش نے اسے دیکھا۔ او میں تو ابھی اپنی دوست کی شادی پر جا رہی ہوں تو تم ایسا کرو کل صبح آنا میرے پاس میں کل تمہاری تیاری کروا دوں گی۔
ابرش شیشے کے سامنے سے ہٹ کر اپنی ہیل پہنتی بولی تو اریش نے منہ بیگارا اور کمرے سے نکل گئی کیونکہ اسے پتا تھا اگر ابرش نے ایک بار منع کر دیا تو مطلب بس اب ہاں نہیں ہو گی۔ کیا ہوا چوہیا منہ کیوں بنایا ہوا ہے؟؟ وہ کمرے سے نکلا اور اس کا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا۔
میرا پرسوں اکنامکس کا پیپر ہے اور میری تیاری نہیں ہے۔ ابرش آپی سے کہا تو وہ کہتیں میں دوست کی شادی پر جا رہی ہوں تمہیں صبح تیاری کروا دوں گی۔ وہ بولی تو زابر کو اس پر پیار ایا۔ میں صدقے ا میری جان میں اپنی چوہیا کو پڑھا دیتا ہوں۔ وہ اس کے بال سہلاتا بولا۔ تمہارا تو خود کل پیپر ہے نہ تم اپنی تیاری کر لو میں صبح کر لوں گی تیاری۔ وہ فکرمندی سے بولی۔
مجھے آتا ہے میرا پیپر تو ا میر ے ساتھ میں کروا دیتا ہوں تیاری۔ وہ پیار سے بولا۔ کوئی ضرورت نہیں ہے تم اپنے پیپر کی تیاری کرو تمہارا لاسٹ سمسٹر ہے اور تم میرے ساتھ میرے کمرے میں چلو میں کروا دیتا ہوں تمہیں تیاری۔ وہ کچھ بولتی کہ تبھی وہاں پر زیام آتا بولا۔
نہیں نہیں لالا میں کر لو ں گی خود سے آپ کو کیوں تنگ کرنا۔ وہ جلدی سے منع کرتی بولی۔ میں نے کہا میرے کمرے میں او تو مطلب او اور تم زابر تم زرا ابرش کو اس کی دوست کی شادی پر چھوڈ آؤ پھر تین گھنٹوں بعد اسے لے کر بھی آنا۔ وہ جانے لگا مگر پھر واپس پلٹ کر بولا۔ مگر لالا ابرش آپی کو آپ کیوں نہیں چھوڈنے جا رہے؟؟
زابر نے جلد بازی میں پوچھا تو آگے سے زیام کی گھوری پر وہ اپنی جلد بازی پر پچھتایا۔ دراصل ابرش زابر سے دو سال بڑی تھی اور زیام کی طرح سڑیل بھی اسی لیے دونوں بہن بھائی زیام اور ابرش سے دور بھاگتے تھے۔ جتنا کہا ہے وہ کرو اسے چھوڈ کر آو اور پھر اپنے پیپر کی تیاری کرو جب اسے لانا ہو گا وہ تمہیں کال کر دے گی۔
کوئی اور سوال؟؟ اس نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا۔ ہنہ پوچھ تو ایسے رہے ہیں جیسے سوال کا جواب دے بھی دیں گے۔ وہ دل ہی دل بولا کیونکہ سامنے تو بول نہیں سکتا تھا۔ کیا ہے یار میں نے نہیں پڑھنا اس کھڑوس سے۔ زیام کے جاتے ہی اریش بولی۔ جا میری بہن چلی جا ورنہ فری کی ایکسٹرا کلاس لگ جائے گی۔
وہ اس کے کندھے پر تھپکی دیتا بولا تو وہ رونے والا منہ بناتی وہا ں سے زیام کے کمرے کی جانب چل پڑی ۔ چل زابر تو اپنی ڈیوٹی پر۔ ایک تو نواب صاحب خود سليبٹیر بن گئے ہیں اور کہیں آنے جانے پر مجھے ڈرائیور بنا دیتے ہیں۔ وہ منہ میں بڑبڑاتا سیڑھیاں اترنے لگا۔
جلدی سے اس سوال کا جواب یاد کرو اور ساتھ ہی مساوات کا ٹیبل بھی زہن نشین کرو میں لکھوا کر دیکھوں گا تم سے۔ اور معاشیات کی تعریف بھی پھر سے لکھواوں گا۔ وہ اریش کی اکنامکس کی بک کھول کر بیٹھا اسے سوالوں پر نشان لگا کر دیتا بول رہا تھا جبکہ وہ بڑے غور سے اسے سننے کی کوشش کر رہی تھی۔
ٹھیک ہے لالا میں یاد کرتی ہوں۔ اس نے اپنی جمائی روکتے کہا کیونکہ پچھلے چار گھنٹوں سے وہ اسے لگاتار پڑھا رہا تھا۔ چلو جلدی کرو میں پندرہ منٹ دے رہا ہوں تمہیں واپس آکر تم سے لکھواتا ہوں اور ٹیبل بھی بنواوں گا۔ وہ اپنے فون پر آتی کال کو دیکھ کر بولتا کمرے سے نکل گیا جبکہ اریش آنکھوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کرتی جواب یاد کرنے لگی مگر اس پر نید اتنی حاوی ہو گئی تھی کہ وہ پانچ منٹ کے اندر ہی سو گئی۔
وہ پندرہ منٹ بعد کمرے میں آیا تو اریش کو صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر سوتے پایا۔ ہنہ کر لی اس نے تیاری۔ وہ سر جھٹک کر بولا اور ٹائم دیکھا جہاں پر ایک بج رہا تھا اب وہ کیا جانتا کہ اریش کو تو گیارہ بجے ہی سو جانے کی عادت تھی اب وہ اس کی طرح آدھی رات تک جاگنے کی عادی تھوڑی تھی۔ وہ جن قدموں سے آیا تھا انہی سے واپس چلا گیا تھا اور تھوڑی دیر بعد اس کے ساتھ آنکھیں مسلتا زابر آیا تھا۔ جگاؤ اسے نید سے اور ساتھ لے جاؤ بہت پڑھ لیا آج اس نے۔ وہ بیڈ کی جانب جاتا بولا تو زابر نے زور دار جمائی لینے کے ساتھ اس سے بھی زیادہ شدت کی ایک انگڑائی لی تھی۔ کیا ہے یار زیام لالا سونے دیتے اسے یہیں صوفے پر آپ نے تو بیڈ پر ہی سونا تھا نہ۔
وہ نید سے بھاری ہوئی آنکھوں کو مشکل سے کھولے برے برے منہ بناتا بولا تو زیام کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔ پی رکھی ہے کیا جو ایسی فضول اور پاگل پن والی باتیں کر رہے ہو؟؟ کس تک سے وہ میرے ساتھ ایک کمرے میں سو جاتی؟؟ زیام واپس سے اس کے سر پر پہنچتا اس کی گردن پر ایک لگا کر بولا تو زابر کی نید ادنچھو ہوئی۔
سوری لالا نید میں کچھ بھی بول گیا سوری۔ وہ گردن مسلتا بولا اور پھر اریش کی جانب متوجہ ہوا جو ان کی آوازوں سے بھی نہیں اٹھی تھی۔ اریش اٹھو اور زابر کے ساتھ کمرے میں جاؤ۔ زیام نے اریش کو آواز دیتے جگانا چاہا۔
وہ چاہتا تو پہلے ہی اسے اٹھا کر بھیج دیتا مگر اسے پتا تھا کہ اریش باجی نید سے جاگ کر آدھا گھنٹہ اپنے حواس میں آنے کے لیے لیتی ہے اسی لیے زابر کو لے کر آیا تاکہ وہ اسے پکر کر کمرے میں چھوڈ آئے۔ نہیں لالا اسے اٹھائیں نہیں سونے دیں میں اٹھا کر لے جاؤں گا ویسے بھی میری چوہیا کا وزن ہی کتنا ہے ۔
وہ زیام کو منع کرتے آگے بڑھا اور اریش کو بڑی احتیاط سے اپنی گود میں اٹھا لیا جبکہ اس کے گود میں اٹھانے پر وہ پہلے تھوڑا سا کسمکائی اور پھر اپنے ہاتھ اور سر اس کے سینے پر رکھتی بڑے مزے سے سو گئی ۔ کتابیں وہ صبح لے جائے گی لالا باقی پڑھانے کے لیے شکریہ۔
وہ اریش کو لے کر جاتا دروازے پر رکا اور زیام سے اپنی بات کہہ کر کمرے سے نکل گیا جبکہ زیام لمبی سانس لے کر ٹیبل پر رکھی کتابیں دیکھتا دروازے کی جانب بڑھا تاکہ دروازہ بند کر سکے۔
* * *
میں کل تمہارے کالج آرہا ہوں۔ وہ اور رمل اس کے کمرے میں بیٹھے ڈیزنی کارٹون بیوٹی اینڈ دا بیسٹ دیکھ رہے تھے جب اچانک سے آدیان بولا۔ ہیں سچی؟؟ پر وہ کیوں؟؟ وہ پہلے خوشی سے بولی مگر پھر تجسس سے وجہ پوچھی۔ وہ اس لیے کیونکہ مجھے تمہاری شکایت ملی ہے کہ تم ٹیسٹ اچھے نہیں دیتی۔ وہ ہسی دباتا بولا تو رمل کا منہ حیرت سے کھلا۔ ایویں ٹیسٹ اچھے نہیں دیتی۔ کس بیوقوف نے یہ کہا ہے کلاس کی ٹوپر ہوں میں پھر بھلا کیسے ٹیسٹ اچھا نہیں دوں گی۔ وہ اپنا رخ آدیان کی جانب کرتی لڑا کا؟؟ انداز میں بولی تو آدیان کے چہرے پر نا چاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ بکھری گئی۔
جی بلکل میں اچھے سے جانتا ہوں میری رمل بہت زہین ہے میں تو بس تنگ کر رہا ہوں اور ویسے بھی کسی کی اتنی مجال کے وہ میری گڑیا کی شکایت مجھ سے ہی لگائے۔ وہ شہادت کی انگلی سے رمل کے چند چھوٹے بال جو پونی میں قید نہیں تھے ان کو کان کے پیچھے کرتا بولا تو رمل اترائی۔ بس دیکھ لیں میں ہوں ہی اتنا اچھی بچی مگر آپ کیوں آرہے ہو کالج۔
وہ پھر سے اپنے پہلے سوال پر آئی۔ وہ بچے میں نہ آپ کے کالج میں کچھ گاؤں کی غریب بچیوں کا اڈمیشن کروانے آؤں گا اور کچھ ڈونیشن دوں گا اسی لیے۔ وہ ریموٹ اٹھا کر ایل سی ڈی کی جانب دیکھتا بولا۔ اچھا سہی ہے جب آؤ گے نہ کالج تو مجھے ضرور ملنے آنا میں کالج کی لڑکیوں کے سامنے شوخیاں ماروں گی کہ دیکھو میرا لالا کتنا ہینڈسم ہے۔ وہ اس کے بازو کے ساتھ چپک کر ایکسائیٹڈ سیبولی۔ نہیں گڑیا تمہیں پتا ہے نہ کہ ہم صرف اس کمرے تک ہی اچھے بہن بھائی ہیں اس کمرے سے باہر ہم بلکل الگ ہیں۔ وہ رمل کے گال تھپتھپا کر بولا تو رمل کا چہرہ اتر سا گیا۔ کیا لالا کب آپ سب کے سامنے بھی میرے ایسے ہی نخرے اٹھاؤں گے مجھ سے پیار سے بات کرو گے۔ وہ اداسی سے بولی تو آدیان چپ کر گیا کیونکہ اس کے پاس اس بات کا جواب نہیں تھا۔
چلو یہ مووی تو ختم ہو گئی ہم نیو مووی شروع کرتے ہیں۔ ٹ ر بیل دیکھیں؟؟ وہ ایل سی ڈی پر ریموٹ سیٹ کرتا بولا تو رمل نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ پکر لیا۔ نہیں جی ہم سنو وائٹ دیکھیں گے۔ وہ اسے منہ چڑھا کر بولی۔ نہیں یار کل ہی تو ہم نے سنو وائٹ دیکھی ہے۔ وہ برے برے منہ بنا کر بولا۔ اچھا تو پھر ہم فروزن دیکھتے ہیں۔
وہ پرسوچ انداز میں بولی۔ بلکل نہیں پرسوں ابھی اس کے دونوں سیزن دیکھیں ہیں تم نے۔ آدیان نے پھر سے منع کیا۔ پرنسزز کو ن ہے؟؟ رمل نے آئی برو آچکا کر پوچھا۔ آپ ہیں جناب اور کون ہے۔ آدیان بولا۔ تو بس میرا فیصلہ آخری ہے۔ ہم فروزن دیکھ رہے ہیں بس۔
اب مجھے آواز نہ آئے کسی کی۔ وہ شہزادیوں کی طرح حکم دینے والے انداز میں بولتی فروزن کارٹون لگا چکی تھی جبکہ آدیان بیچارہ چپ چاپ اس کے ساتھ فروزن مووی دیکھنے لگا۔
* * *
یار یہ زیام لالا کی شادی کی بات ابھی تک چلی کیوں نہیں؟؟ کب کریں گے وہ اس لڑکی کو پرپوز کب ہمیں شوپنگ کے پیسے ملیں گے؟؟ کب آخر کب؟؟ اریش زابر کو کندھوں سے پکرے اسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھ رہی تھی جبکہ وہ بیچارہ اپنا سر پکر کر رہ گیا تھا کیونکہ اریش کے جھنجھوڑنے سے اسے چکر آنے لگ گئے تھے۔
مجھے کیا پتا کب کریں گے۔ تین ہفتوں میں سے دو ہفتے تو گزر گئے اور گھر میں کوئی آواز بھی نہیں سنی شادی کی۔ زابر اس کے ہاتھ کندھوں سے ہٹا کر آنکھیں بار بار بند کرتے کھول کر بولا۔ کیا یے یار لالا جلدی کریں نہ پرپوز اس لڑکی کو تاکہ ان کے اور ابرش آپی کے نکاح کو مزے سے انجوائے کریں۔ اب تو بیيبر بھی ختم ہو گئے میرے۔ وہ منہ بناتی بولی۔ چل چھوڈ آجا باہر چلیں نیچے گلی میں بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ زابر جو کمر ے کی کھڑکی کے پاس پہنچ کر پردے ہٹا رہا تھا نیچے گلی میں بچوں کو کھیلتا دیکھ بولا۔
ہیں سچی؟؟ چلو چلتے ہیں بڑے دن ہو گئے بلا بھی نہیں پکڑا۔ وہ خوشی سے کھڑی ہوتی بولی اور پھر دونوں بہن بھا ئی ایک دوسرے کا ہاتھ پکر کر باہر کو بھاگے تھے۔
* * *
کہاں جا رہے ہو تم دونوں؟؟ وہ بھاگتے ہوئے انٹرنس پر پہنچے ہی تھے کہ بی جان کی سخت آواز پر ان کے قدم رکے۔ و۔۔وہ بی جان ہم باہر گلی میں جا رہے ہیں۔ زابر نے تھوک نگلتے کہا جبکہ اریش کے ہاتھ پر اس نے پکر مضبوط کی تھی۔ کیوں باہر کون سے چاول بانٹے جا رہے ہیں جو تم دونوں یوں بھاگتے ہوئے جا رہے ہو؟؟
بی جان نے تیکھے انداز میں پوچھا اور اپنی چھڑی کو مضبوطی سے پکر کر چلتیں ان کے پاس پہنچیں۔ وہ بی جان میرے اور اریش کے پیپرز ختم ہو گئے ہیں اور میں تو فری ہو گیا ہوں جبکہ اریش کی چھٹیاں چل رہیں ہیں اسی لیے ہم بس کچھ دیر باہر بچوں کے ساتھ کھیلنے جا رہے تھے۔ زابر سر جھکاتا بولا جبکہ اریش بس خاموشی سے کھڑی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اسے ابھی نہیں بولنا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں جانے کی۔ خو د کو جا کر آئنے میں دیکھو گدھے جتنے ہو گئے ہو مگر ابھی بھی چھوٹے بچوں سے بلے چھین کر کھیلتے ہو۔ اور تم اریش تم تو کچھ شرم کرو اتنی بڑی ہو گئی ہو اور کیسے بے شرموں کی طرح گلی میں جا کر کھلییی ہو۔ بی جان پہلے زابر کو لتارتیں بعد میں اریش پر برسیں جبکہ اب اریش نے منہ کھولا تھا کیونکہ اسے ابھی بولنا تھا۔ کیا بی جان میں کھیل بھی نہیں سکتی؟؟ اس میں میرا قصور ہے کیا کہ میں جلدی بڑی ہو گئی؟؟ میرا دل تو ابھی بچہ ہے نہ اور وہ چاہتا ہے کہ میں کھیلوں اور مزے کروں مگر آپ بی جان آپ کو اپنی بن ماں کی پوتی پر ترس نہیں آتا آپ اور آپ کا وہ لاڈلہ مشہور سنگر دی گریٹ زیام خان آپ دونوں ہی میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں ہر وقت۔ مجھے روکتے ٹوکتے رہتے ہیں۔ کہاں جاؤں میں مر جاؤں؟؟
اریش نے اپنی ڈرامے باز کی کوالٹی کا استعمال کیا تھا اور ڈرامے بازی کی حد کر دی تھی۔ اس کے ایسے اچانک سے یوں سینٹی ہونے پر جہاں بی جان حیران اور پریشان ہوئیں تھیں وہیں اپنے کمرے سے نکلتیں نوشہ بیگم تو چہرے پر ہرددی اور پیار کے تاثر لیے ان کی جانب آئیں تھیں۔ میں صدقے میری بچی کے کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہا ہے میری بیٹی کو؟؟
وہ اریش کو گلے لگاتیں بولیں جبکہ ان کے سینے میں سر چھپاتی وہ افلاطون مسکرائی تھی کیونکہ نوشہ بیگم کو دیکھ کر ہی تو وہ سینٹی ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب وہ ہی اسے اجازت دلوا سکتی تھیں۔ چاچی بی جان کھیلنے نہیں جانے دے رہیں۔
وہ سوں سوں کرتی بولی۔ اماں جی کیا کرتی ہیں آپ کیوں بچی کو رلا رہی ہیں جانے دیں نہ۔ نوشہ بیگم بی جان کو دیکھتیں بولیں۔ ارے مجھے کیا پتا تھا یہ دل پر لے لے گی میری بات کو۔ میں صدقے میری بچی کے جا میری بچی میں نہیں روکتی تجھے۔ ویسے بھی ابھی میری گڑیا بڑی کہاں ہوئی ہے میں تو ایسے ہی بول رہی تھی۔
وہ اریش کو اپنے سینے سے لگا کر بولیں تو زابر نے ہسی چھپائی۔ دیہان رکھنا بہن کا چوٹ نہ لگے اسے۔ وہ دونوں خوشی خوشی جانے لگے تو بی جان نے زابر کو ہدایت دی جس پر وہ سر ہلا کر اریش کے ساتھ باہر بھاگ گیا۔ ہاہاہا میری چوہیا کیا ڈرامہ کرتی ہے یار تو۔ سہی تونے بی جان ا ور چاچی کو آلو بنایا۔ ے ہوئے بولا تو اریش نے اترا کر ناک چڑھایا۔ بس کیا کروں لاڈلی ہی بہت ہوں میں ایک انسوں کے گرنے کی دیر ہے اور سب کے سب میرے آگے ہار مان جاتے ہیں۔ وہ ہس کر بولی تو زابر نے بھی ہسیے ہوئے اس کے بال بیگاڑے۔
بس اللہ تیرے انسوں کے آگے سب کو ایسے ہی بے بس رکھے۔ وہ ہس کر دعا دیتا بولا تو اریش نے آمین کہا مگر ان دونوں کو پتا نہیں تھا کہ ایک دن یہ انسوں کسی کام نہیں آنے والے تھے۔
* * *
سردار ساتھ والے قبیلے کے سردار نے ہمارا پانی روک دیا ہے جس کی وجہ سے فصلوں کو نہری پانی نہیں مل پا رہا اور فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ وہ ڈیرے پر موجود گاؤں کے لوگوں کے مسائل سن رہا تھا جب ایک کسان اس کے پاس آ کر بولا۔ سردار ازقان نے؟؟
آدیان نے کنفرم کرنا چاہا۔ جی سردار سردار ازقان نے۔ وہ کسان سر جھکائے بولا۔ آہ تو اب ایسے بدلہ لینا چاہتے ہو تم۔ وہ منہ میں بڑبڑایا۔ خورشید گاڈی نکالو ہم ابھی ازقان خان کے قبیلے جائیں گے۔ اس نے اونچی آواز میں اپنے ڈرائیور کو آواز لگائی۔ سردار گارڈز کی گاڈیاں تیار کرواؤں؟؟ اس کے خاص ملازم نے پوچھا۔
نہیں خان چاچا اس کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ لاکھ ہمارا بڑا دشمن سہی مگر کبھی بھی گھر آئے مہمان کو چوٹ نہیں پہنچائے گا۔ آخر کو وہ بھی ایک پٹھان ہے اور پٹھان اپنے اصول کبھی نہیں بھولتا دشمنی میں بھی نہیں۔
وہ کھڑے ہو کر اپنے کڑتے کی سلوٹ کو درست کرتا بولا تو خان چاچا چپ کر گئے۔ جیسے آپ کا مرضی سردار۔ وہ سر جھکا کر بولے جبکہ آدیان گاڑی میں جا کر بیٹھتا ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا کہہ چکا تھا۔
* * *
کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟ وہ دونوں بچوں کے ساتھ کھیلنے میں اتنے مگن تھے کہ زیام کی گاڑی کو دیکھ ہی نہ سکے جبکہ وہ ان دونوں کو دیکھ کر گیٹ کے باہر گاڑی روک کر گاڑی سے نکل ان کے پاس آکر سختی سے بولا تو ان دونوں کا تراہ نکل گیا۔ ز۔۔زیا۔۔م ل۔ا۔لا!
وہ دونوں ڈر کے مارے سہی سے اس کا نام بھی نہ لے سکے تھے جبکہ اریش نے تو پھیلا کر لیا ڈوپٹہ سر پر بھی اوڑھ لیا تھا۔ بچے ہو چھوٹے جو بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہے ہو؟؟ بولو نہ بچے ہو؟؟ اس نے ان کو گھورتے پوچھا۔ جی لالا۔ اریش کی زبان پھسلی تھی جبکہ اس نے پھسلی زبان کو فوراً سے دانتوں تلے دبا کر آنکھیں بند کی تھیں۔
بچے تو زیام کے ان دونوں کو ڈانٹنے پر خود بھی ڈر کر بھاگ گئے تھے۔ چلو گھر کے اندر میں تم دونوں کے بچپنے کو اچھے سے نکلواتا ہوں بی جان سے۔ وہ انہیں انگلی کے اشارے سے اندر جانے کا بولا۔ بی جان سے اجازت لے کر آئے ہیں ہم۔ اریش نے ہمت کرتے کہا جس پر زابر نے اس کی بازو پر چوٹی کاٹی کہ بہن چپ کر جا کیوں اس کا غصہ بڑھا رہی ہے۔
وہ تو آج ویسے ہی حد سے زیادہ تپا ہوا لگ رہا تھا۔ بکواس بند کرو اپنی تم بہت زبان چلتی ہے تمہاری۔ کاٹ کر رکھ دوں گا تمہاری زبان کو اگر دوبارہ میرے سامنے کھلی تو۔ وہ غصے سے لال ہوتا اس پر برسا تو اریش ڈر کر زابر کے سینے سے لگی تھی جبکہ اس کا پورا وجود ڈر سے کانپنے لگا تھا۔ زیام لالا پلیز آپ کو ڈانٹنا ہے تو مجھے ڈانٹو مگر اریش کو نہیں۔
آپ بڑے ہیں آپ کی عزت کرتے ہیں ہم مگر مجھے منظور نہیں میری بہن کو میرے علاؤہ کوئی کچھ کہے اور وہ اس کی آنکھوں میں آنسوں لائے۔ اریش کو ڈرتے اور روتے دیکھ زابر تھوڑے سخت انداز میں بولا جبکہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس نے اریش کے گرد باندھ کر اس کی کمر پر تھپکی دی تھی۔ زابر کی بات پر زیام نے اسے حیران ہو کر دیکھا۔
اندر چلے جاؤ تم دونوں اس سے پہلے میرا پہلے سے خراب دماغ اور خرا ب ہو اور بی جان سے بھی میں پوچھ لوں گا کہ کس خوشی سے تم لوگوں کو اجازت دی باہر آنے کی۔ وہ انہیں ویسے ہی گھورتا بولا تو زابر اریش کو خود سے دور کرتے اس کے کندھے پر بازو پھیلاتا اندر بڑھ گیا جبکہ وہ بھی ان کے پیچھے ہی اندر گیا تھا اور جاتے ہوئے گاڑی کی چا بی گارڈ کی جانب پھینک گیا تھا تاکہ وہ گاڑی اندر لا سکے۔ ہنہ آئے بڑے دماغ خراب ہو جائے گا۔ پہلے کون سا سہی ہے جو اور خراب ہو گا۔ وہ اندر جاتا آہستہ آواز میں اریش کے کان میں بولا تو روتی اریش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری جبکہ اس کی مسکراہٹ پر زابر کو سکون آیا تھا۔
وہ سیدھا ازقان خان کے ڈیرے پر پہنچا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اسے وہیں ملے گا اور سچ میں ازقان خان ڈیرے پر ہی موجود تھا۔ کیا بات ہے خیر ہے نہ سردار آدیان خان لگتا ہے زندگی سے محبت نہیں رہی اسی لیے خود چل کر موت کی دہلیز پر پہنچے ہو۔
وہ جیسے ہی ازقان خان کے پاس پہنچا تو وہ اسے دیکھ کر پلنگ سے کھڑا ہوتا بولا جبکہ اس کی بات پر آدیان مسکرایا۔ زندگی سے محبت تو ختم نہیں ہوئی مگر لگتا ہے میرے سامنے کھڑے خان میں غیرت کم ہو گئی ہے جو گھر آئے مہمان کو موت کی دھمکی دے رہا ہے۔
آدیان نے تیکھے انداز میں سامنے والے کو سلگایا تھا جبکہ اس کی بات پر سامنے کھڑا آدیان کی عمر کا ہی خوبصورت پٹھان مٹھیاں میچ کر رہ گیا تھا۔ مہمان ہونے کا ہی لحاظ ہے تبھی تو زندہ کھڑے ہو ورنہ اب تک فرشتوں کو اپنا حساب کتاب دے رہے ہوتے۔
وہ بھی ازقان تھا کہاں پیچھے رہتا۔ واہ مطلب میں سہی تھا۔ مجھے پتا تھا تم میرے مہمان ہونے کا لحاظ رکھو گے۔ آدیان بولا تو ازقان کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ آئی۔ میں تو مہمان ہونے کا لحاظ بھی رکھ رہا ہوں نںیہ چاہتا تھا۔
میں یہاں تم سے پانی کے مسلے پر بات کرنے ایا ہوں۔ مجھے یہ بتاؤ تم نے نہری پانی کیوں روک رکھا ہے ہمارے قبیلے کا؟؟ آدیان اصل بات پر آیا۔ کھڑے کھڑے ہی سوال جواب شروع کر دیے بیٹھو گے نہیں؟؟ ایک پٹھان مہمان کو بنا کچھ کھلائے پلائے نہیں جانے دیتا اس لیے آؤ بیٹھو آرام سے بات کرو۔ ازقان پلنگ پر واپس بیٹھتا بولا تو آدیان کو نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھنا پڑا جبکہ ازقان کے ملازم نے فورآ سے پہلے آدیان کو قہوہ پیش کیا تھا۔ ہاں اب بولو کیا بات ہے؟؟ ازقان اپنے قہوے کی پیالی سے ایک چسکی بھرتا بولا۔ پانی کیو ں روک رکھا ہے؟؟ آدیان کا لہجہ سخت ہوا۔
ارے ہاں تمہارے قبیلے کا تو پانی روک رکھا ہے میرے قبیلے نے۔ لیکن اب تم خود چل کر آئے ہو تو مہمان کی عزت کرتے ہوئے میں تمہارے قبیلے کا پانی چھوڈ دوں گا۔ ازقان اپنی مونچھوں کو بل دیتا ٹیس کرنے والی مسکراہٹ سے بولا تو آدیان نے مٹھیاں میچیں۔
جان بوجھ کر کیا نہ تم نے ایسا؟؟ آدیان نے پوچھا۔ ہاں بلکل جان بوجھ کر کیا میں نے ایسا مجھے مزہ آتا ہے ایسا کرنے میں۔ وہ بھی ازقان تھا بنا شرمندہ ہوئے اور بنا ڈرے بولا۔ تم سے امید بھی یہی کی جاسکتی ہے پاگل انسان۔ وہ غصے سے کھڑ ا ہوتا بولا تو ازقان کی تب سے چہرے پر موجود تنزیہ مسکراہٹ ختم ہوئی تھی جبکہ اب چہرے پر سنجیدگی تھی۔
جا تو رہے ہو مگر اتنا سن کر جاؤ آدیان خان جیسے تم نے مجھ سے میرا اکلوتا اور میرا دل عزیز رشتہ چھینا تھا نہ بلکل ویسے ہی میں بھی ایک دن تم سے تمہاری کوئی قیمتی چیز چھین لوں گا۔ بس ایک بار ایک بار مجھے تمہاری کمزوری کا پتا چل جائے۔
ازقان خان نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے کہا۔ تم بلا وجہ کی دشمنی پال کر بیٹھے ہو ازقان خان لیکن کیا کر سکتے ہیں لگے رہو تم میری کمزوری ڈھونڈنے میں کیونکہ نہ تو میری کوئی کمزوری ہے اور نہ ہی مجھے کوئی عزیز ہے۔ اس سے بہتر ہے تم مجھے جان سے مار کر اپنا بدلہ پورا کر لو۔
وہ جو ازقان کی بات پر رک گیا تھا پلٹ کر اسے دیکھتا بولا اور پھر کمرے سے نکل گیا جبکہ پیچھے ازقان خان نے پاس پڑے موڑھے کو ایک زوردار ٹانگ رسید کرتے اسے دور پھینکا تھا۔ میں تمہیں ترپاوں گا آدیان خان بہت ترپاوں گا بلکل ویسے جیسے میں ترپا تھا۔
تمہیں جان سے مارنے میں وہ مزہ نہیں آئے گا جو تمہیں ترپانے میں آئے گا۔ اتنا تو مجھے پتا ہے کہ تمہاری بھی کوئی نہ کوئی کمزوری ضرور ہوگی مگر وہ کیا ہے اس کا پتا بھی جلد لگا لوں گا۔
وہ ہلکی آواز میں خود سے بڑبڑایا جبکہ ان سب سے بےخبر اپنے کالج میں دوستوں کے گروپ میں بیٹھی رمل کسی بات پر کھکھلا رہی تھی۔
* * *
کیا؟؟ سچ میں؟؟ وہ دونوں نوشہ بیگم کے سامنے کھڑے بے یقینی سے بولے تو وہ ہس پڑیں۔ ہاں سچ میں اگلے جمعے زیام اور ابرش دونوں کے نکاح ہوں گے۔ نوشہ بیگم نے مسکرا کر اپنی بات دہرائی تو وہ دونوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کا ہاتھ پکر کر گول گول گھومنے لگے۔ واہ چاچی دل خوش کر دیا آپ نے تو۔
اب مطلب کہ کھلی شاپنگ اور نکاح کی تیاریاں؟؟ اریش نے آنکھوں میں چمک لیے پوچھا تو نوشہ بیگم نے سر ہلا دیا۔ ہاں کھلی شوپنگ جو دل میں آئے جو پسند آئے وہ لینا تم دونوں کے اکاؤنٹ میں پیسے آجائیں گے۔ وہ ہس کر کہتیں وہاں سے چلی گئیں جبکہ وہ دونوں پیچھے ایک د وسرے کو چوٹی کاٹتے چیک کر رہے تھے کہ یہ کوئی خواب نہیں۔
چل آجا چوہیا ہم مل کر اپنی شوپنگ کی لسٹ بنائیں۔ زابر نے اریش سے کہا تو وہ خوشی سے سر ہلاتی اس کے ساتھ چل پڑی۔ وہ دونوں سیڑھیاں چڑھنے لگے کہ تبھی زیام کو اوپر سے نیچے آتا دیکھ رہ گئے۔ زیام لالا کیا سچ میں آپ کا جمعے کو نکاح ہے؟؟
اریش نے خوشی سے پوچھا اس خوشی میں وہ کل شام کی ڈانٹ بھی بھول گئی تھی۔ ہاں کیوں تمہیں یقین نہیں؟؟ زیام نے آئی برو آچکا کر پوچھا۔ ارے نہیں لالا بس وہ آپ کے نکاح کی خوشی ہی اتنی ہے کہ ہم بار بار یہ بات سننا چاہتے ہیں کہ آپ کا نکاح ہے تبھی بار بار پوچھ رہے ہیں۔ زابر نے جلدی سے اریش کو اپنے ساتھ لگاتے کہا۔ اچھی بات ہے۔
وہ سر ہلا کر کہتا سائیڈ سے ہو کر گزر گیا جبکہ زابر نے اریش کو گھورا۔ کیوں اپنی زبان کو روک نہیں پاتی کیوں اس کھڑوس کے آگے ہی یہ زبان چلنی ہوتی ہے؟؟ کتنی بار کہوں کہ ان دونوں کڑوے کڑیلوں کے سامنے اپنا منہ بند رکھا کر۔
وہ اریش کے ہونٹوں پر ہلکے ہلکے تھپر مارتا بولا تو اس نے اپنا چہرہ سائیڈ پر کرتے منہ بنایا۔ کیا ہے یار زاری خوشی ہی اتنی تھی کہ روک نہ سکی خود کو۔ وہ ناک چڑھا کر بولی تو زابر نے تاسف سے سر ہلایا۔ چل چھوڈ آجا ہم اپنا کام کریں۔ وہ اس کا بازو پکر کر اوپر کمرے کی جانب چل پڑا۔
* * *
آدیان بیٹا آج بہن کو کالج ڈراپ کر دینا سفیان گھر پر نہیں ورنہ وہ چھوڈ آتا۔ وہ تیار شیار گھر سے باہر جا رہا تھا جب دا جان نے اسے آواز دیتے کہا۔ ڈرائیور مر گئے ہیں گھر کے جو میں چھوڈنے جاؤں؟؟ اور کتنی دفع کہوں میری کوئی بہن نہیں ہے لہذہ فضول کے رشتے مجھ سے نہ ہی جوڑیں تو اچھا ہو گا۔ وہ سخت لہجے میں بولتا وہاں سے چلا گیا جبکہ دا جان مہرین بیگم کو دیکھ کر نظریں چرا کر رہ گئے۔ کچھ نہیں ہتاو بابا جان میں جا کر ڈرائیور کو دیکھتیں ہوں میں نے پہلے ہی کہا تھا اسے مت کہیں۔
وہ مسکرا کر کہتیں سر پر اچھے سے چادر لے کر چہرہ چھپاتیں باہر کی جانب بڑھ گئیں۔ فیروز بابا آپ یہاں کیا کر رہے ہو؟؟ آدیان کے ساتھ نہیں گئے آپ؟؟ وہ باہر نکلیں تو آدیان کے ڈر ائیور کو کھڑا دیکھ بولیں۔
وہ بی بی جی سردار کو کہیں زاتی کام سے جانا تھا تبھی مجھے نہیں لے کر گئے۔ آپ کو کوئی کام تھا؟؟ درمیانی عمر کے فیروز بابا سر جھکائے بولے۔ جی بابا آپ رمل کو کالج چھوڈ آئیں پھر واپسی پر اس کے بابا خود لے آئیں گے۔ وہ دھیمے لہجےمیں بولیں تو فیروز بابا نے سر ہلایا۔
جی بی بی جی میں دوسری گاڑی نکالتا ہوں آپ چھوٹی بی بی جی کو بھیج دیں۔ وہ فرمابرداری سے کہتے دوسری گاڑی کی جانب بڑھ گئے اور مہرین بیگم واپس حویلی کے اندر چلی گئیں جبکہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے کالج کے لیے تیار برقعہ پہنے کھڑی رمل کی آنکھیں بھی ہونٹوں کے ساتھ مسکرائی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھی آدیان فیروز بابا کو کیوں چھوڈ کر گیا ہے۔