Chapter 16: قسط 16

وہ اس وقت ایک کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا جب اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس پر اس نے پلٹ کر دیکھا۔ ہیلو مسٹر ہینڈسم! کیسے ہو؟! علشيہ مسکراتی ہوئی میٹھی آواز میں بولتی اس کے سامنے والی چئر پر آکر بیٹھی۔ میں تو ٹھیک ہوں مگر تم یہاں کیسے؟؟ تم تو لندن گئی ہوئی تھی نہ؟؟ اسے اپنے سامنے دیکھ کر زیام کا موڈ خوشگوار ہوا تھا۔ ہاں میں موم ڈیڈ سے ملنے گئی ہوئی تھی اور کل ہی واپس آئی ہوں۔ وہ اس کے سامنے سے اس کی کافی کا کپ اٹھاتی بولی مگر جیسے ہی وہ کپ ہونٹوں تک لے کر گئی زیام نے اسے روکا۔ ارے رکو یار میں تمہیں اور منگوا دیتا ہوں یہ میری جوٹھی ہے۔ وہ کپ پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے کرتا بولا مگر علشيہ نے اس کے منع کرنے کے باوجود بھی کپ سے ایک سپ بھرا تھا۔ مجھے تو اسی کپ میں اور یہی کافی پینی ہے۔ تو کیا ہوا اگر تمہاری جوٹھی ہے۔ ویسے بھی میں نے سنا ہے جوٹھا پینے سے پیار بڑھتا ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی آخر میں اسے آنکھ ونک کر گئی جبکہ زیام حیران پریشان سا کچھ بول بھی نہ پایا تھا۔

کیا ہوا؟؟ ایسے حیران کیوں ہو گئے؟؟ کیا کچھ غلط کہہ دیا میں نے؟؟ زیام کے خود کو حیرانگی سے دیکھنے پر وہ کپ سائیڈ پر رکھتی پوچھنے لگی جس پر اس نے نہ میں سر ہلایا۔ نہ۔۔نہیں کچھ نہیں ہوا بس ویسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ ویسے تمہاری بیوی کا کیا حال ہے؟؟ یہیں ہے وہ یاں لاہور چلی گ ؟؟

جب بات کرنے کو کوئی ٹاپک نہ ملا تو اس نے اریش کا زکر چھیڑ لیا۔ ہاں وہ ٹھیک ہے اور یہیں پر ہے لاہور کیوں جائے گی۔ تم سناؤ تمہارا سیلون کیسا جا رہا ہے؟؟ اریش کے بارے میں بتاتے زیام نے اس سے پوچھا۔ ہاں اچھا جا رہا ہے میں ابھی پروپر ٹائم نہیں دے پا رہی سیلون کو۔ پہلے ایک ڈرامہ کے لیے تین دن میک اپ آرٹسٹ کا کام کیا اور پھر لندن چلی گئی۔

اب کل جاؤں گی سیلون اور دیکھوں گی ورکرز نے کوئی کام نہ بیگارا ہو۔ علشيہ نے بتایا تو زیام نے ہاں میں سر ہلایا۔ ویسے آج رات کا کیا پلان ہے تمہارا؟؟ علشيہ نے اچانک پوچھا۔ آج رات کچھ خا ص نہیں بس وہی روٹین گھر پر۔ وہ کندھے آچکا کر بولا۔ تو کیا پھر اج رات تم میرے ساتھ مووی دیکھنے چلو گے ؟؟

اس نے پوچھا تو زیام سوچ میں پڑگیا۔ اوکے چلوں گا ویسے بھی تمہیں پتا تو ہے میں تمہیں انکار نہیں کر سکتا۔ زیام ہس کر بولا تو علشيہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ تمہاری بیوی کو برا تو نہیں لگے گا نہ؟؟ اسے فرق تو نہیں پڑتا تھا کہ اریش کیا سوچے گی مگر زیام کے سامنے اچھا بننے کو پوچھ لیا۔

ارے نہیں وہ ایسی نہیں ہے۔ اسے برا نہیں لگتا۔ زیام نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اچھا یہ تو اچھی بات ہے ویسے تمہارا نیو سونگ کب آرہا ہے؟؟ کافی کے کپ سے آخری سپ بھرتے ہوئے اس نے پوچھا جبکہ زیام اس کی بات کا جواب دینے لگا۔

* * *

کیا ہے کیوں میرے سر پر کھڑی مجھے گھور رہی ہو؟؟ وہ کل سارا دن حویلی نہیں آیا تھا رات کے وقت جا کر آیا تھا اور رمل سے اس نے کوئی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی رمل نے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر آج دوپہر جب سے وہ ڈیرے سے واپس آیا تھا وہ اس کے پاس کھڑی ہوکر اسے دیکھے جا رہی تھی۔ جھوٹ نہ بولیں میں تو زمین پر کھڑی ہوں آپ کے سر پر کیسے کھڑی ہو سکتی ہوں۔ وہ ہونٹوں کا پاوٹ بنا کر بولتی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھی۔ جو بھی ہے یہ بتاؤ کہ مجھے گھور کیوں رہی ہو؟؟

ازقان نے آنکھیں گھما کر کہا۔ وہ نہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے اسی لیے آپ کو گھور رہی تھی۔ وہ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولی۔ بولو کیا بات کرنی ہے؟؟ ازقان نے پوچھا جبکہ اس کا دیہان سامنے ایل سی ڈی پر چلتے نیوز چینل پر تھا۔

میری طرف دیکھیں نہ اسے چھوڈیں ابھی میری بات سنیں غور سے۔ اسے یوں شو میں مگن دیکھ رمل نے ریموٹ اٹھا کر ایل سی ڈی آف کر دی تھی اور آگے ہو کر ازقان کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے اپنی جانب کیا تھا۔ اس اچانک ہوئی کارکردگی پر ازقان ہکا بکا رہ گیا تھا جبکہ رمل کو جب سمجھ آیا کہ اس نے کیا کیا ہے تو شرمندہ ہوتی جلدی سے اس کے چہرے سے ہاتھ اٹھا گئی تھی۔

خود کو نارمل کرتے ازقان اپنا رخ پوری طرح رمل کی جانب کرکے بیٹھا۔ اچھا بولو کیا کہنا ہے تمہیں۔ اسے شرمندہ دیکھ وہ خود ہی بولا جبکہ اس کے بولنے پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔ وہ نہ مجھے آپ سے کہنا تھا کہ میری کالج سے آج دوسری چھٹی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ میں یوں کالج سے چھٹی کر رہی ہوں۔ میری پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے پلیز آپ میرے لیے ایک ڈرائیور کا انتظام کر دیں کیونکہ مجھے کالج جانا ہے۔ وہ معصوم شکل بنا کر اسے اپنی بات کہنے لگی جبکہ ازقان تو اس کے چہرے کے بدلتے ایکسپریشن کو دیکھ رہا تھا جو بات کرتے ہوئے اس کے چہرے پر آ جا رہے تھے۔ کالج جانا ہے تمہیں؟؟

اس نے آنکھیں چھوٹی کیے پوچھا تو رمل نے خوشی سے ہاں میں سر ہلایا۔ جی جی بلکل یہی کہہ رہی ہوں کالج جانا ہے۔ وہ خوشی سے بولی۔ اگر میں اجازت نہ دوں تو؟؟ ازقان نے سنجیدگی سے کہا تو رمل کے چہرے کی خوشی غائب ہوئی تھی اور اس کی جگہ اداسی سے نے لے لی تھی کیونکہ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں کہ اگر اس نے پڑھائی چھوڈنے کا کہہ دیا تو وہ کیا کرے گی۔

بولو اگر میں نے منع کر دیا تو کیا کرو گی؟؟ اس کے کوئی جواب نہ دینے پر ازقان نے پھر سے پوچھا۔ پھر میں کچھ نہیں کہوں گی اور آپ کی بات مانوں گی کیونکہ مورے کہہ کر گئی ہیں کہ آپ کی باتوں پر اعتراض نہ کروں اور نصرت اماں نے بھی کل کہا تھا کہ اچھی بیوی شوہر کا ہر کہا مانتی ہے۔

وہ اداسی سے سر جھکائے ہوئے بولی جبکہ اس کی آواز میں جھلکتی مایوسی پر ازقان کو برا لگا۔ کہاں ابھی وہ چہک چہک کر بول رہی تھی اور اب اچانک سے اداس ہو گئی۔ اپنی کالج ٹائمنگ بتاؤ مجھے۔ میں خود تمہیں چھوڈنے جایا کروں گا اور لینے بھی آیاکروں گا۔

اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے وہ بولا تو پہلے تو رمل کو سمجھ نہ آئی کہ وہ بولا کیا ہے مگر جیسے ہی سمجھ آئی اس کے چہرے پر بے یقینی پھیلی۔

سچی؟؟ بے یقینی سے پوچھا گیا جبکہ آواز پھر سے ہشاش بشاش تھی جسے سن کر ازقان کے لب مسکرائے ۔ ہاں لیکن اگر تم صبح وقت پر تیار ہو گی اور دیر نہیں کر گی تو۔ ازقان نے اس سے اپنی مسکراہٹ چھپاتے پھر سے سیریس ہو کر کہا۔ ٹھیک ہے میں بلکل دیر نہیں کیا کروں گی۔ شکریہ آپ کا خان جی شکریہ آپ بہت اچھے ہیں۔

وہ خوشی سے کہتی آگے ہو کر اس کے گلے لگی۔ ازقان جہاں پہلے اس کے منہ سے خان جی سن کر ساکت ہوا تھا اس کے گلے لگنے پر تو اس کا سانس ہی رک گیا تھا۔ پھر سے اپنی جلد بازی کا احساس ہونے پر وہ جلدی سے دور ہونے لگی مگر تبھی ازقان نے اس کی کمر کے گرد اپنے بازوں کا حصار باندھ لیا تھا۔ چ۔۔ھ۔۔چھوڈیں! اس سے دور ہونے کی کوشش کرتے وہ شرم بھرے لہجے میں بولی مگر ازقان نے بجائے اسے چھوڈنے کے پکر اور زیادہ مضبوط کر لی۔ یہیں رہو پلیز سکون مل رہا ہے۔ وہ آنکھیں بند کیے کھوئے ہوئے لہجے میں بولا تو رمل نے تھوک نگلا مگر اس کی بات مان کر دور ہونے کی کوشش ترک کرتے خود بھی آنکھیں بند کر لی تھیں۔

* * *

باہر کوئی آیا ہے دیکھیں جا کر۔ دروازے کی بیل بجی تو لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھ کر اپنی کتابوں میں سر دے کر پڑھتی اریش نے زیام سے کہا جو اپنے کمرے میں تھا۔ اس کے آواز دیتے ہی وہ اپنے کمرے سے نکلا جبکہ اریش اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی جو روز اس وقت ٹروزار اور ٹی شرٹ میں ہوتا تھا مگر آج پینٹ شرٹ پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے خوشبو میں نہایا ہوا دروازے کی جانب جا رہا تھا۔ یہ لو تمہارا ڈنر۔ وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دو شاپر تھے جنہیں اس نے اریش کے سامنے والے ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔ میرا ڈنر؟؟ آپ نے منگوایا ہے؟؟ اریش نے حیران ہو کر پوچھا۔ ہاں میں نے آڈر کیا تھا کیونکہ کھانا بنانے کا میرا ہفتہ چل رہا ہے اور آج میں نے ڈنر باہر کرنا ہے اس لیے تمہارے لیے آڈر کر دیا۔

زیام نے تفصیل بتائی تو اریش نے آگے ہو کر شاہر اٹھا کر اپنے گود میں رکھے اور ان کو کھول کر دیکھنے لگی جن میں سے ایک میں پیزا برگر تھے جبکہ دوسرے میں فرائے چکن اور کولڈرنک تھی۔ آپ کس کے ساتھ ڈنر کرنے جا رہے ہیں؟؟ اس نے تجسس سے پوچھا۔ ابكچلی میں آج علشيہ کے ساتھ ڈنر کروں گا۔

اور پھر ہم دونوں نے مووی دیکھنے جانا ہے۔ زیام نے خوشی سے بتایا جبکہ نا جانے کیوں اریش کو اس بار علشيہ کا زکر برا لگا۔ اچھا چلیں اچھی بات ہے۔ وہ اداس ہونا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی اس کے چہرے اور لہجے سے اداسی جھلکی۔ ارے تم کیوں اداس ہو گئی؟؟ تمہیں بھی جانا ہے کیا؟؟ زیام نے اسے اداس ہوتے دیکھ کہا جبکہ اریش نے نہ میں سر ہلایا۔

اچھا نہ ٹھیک ہے اداس نہ ہو اور اپنا کھانا انجوائے کرو میں وعدہ کرتا ہوں میں کسی دن تمہیں بھی مووی دیکھانے لے کر جاؤں گا۔ زیام مسکراتے ہوئے بولا تو اریش نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئی۔ اچھا اب تم اپنا خیال رکھنا اور کسی کے لیے بھی دروازہ مت کھولنا۔ میرے پاس چابی ہے تو میں خود آجاؤں گا۔

وہ اپنے کمرے سے جا کر گاڑی کی چابی لاتا بولا جس کے کی چین میں گھر کی چابیاں بھی ڈال رکھی تھیں۔ ٹھیک ہے مگر جلدی آ جائیے گا پھر صبح آپ کو جلدی اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ وہ پیزے کا ڈبہ کھولتی بولی تو زیام اوکے کہتا گھر سے نکل گیا جبکہ اریش نے ریموٹ اٹھا کر ایل سی ڈی ان کی تھی کیونکہ اس کے ڈرامے کی کچھ ایپی سوڈ رہتی تھیں جنہیں وہ پیزہ برگر کھاتے ہوئے دیکھنے والی تھی۔

رات اس کی آنکھ پیاس کی شدت سے کھلی تو اس نے خود پر کچھ بھاری محسوس کیا۔ آنکھیں مسلتے ہوئے اس نے اپنے ہواش بحال کیے اور اپنے سینے کی جانب دیکھا جہاں پر ابرش پوری طرح سے اس پر قابض ہوئی سو رہی تھی۔ وہ پوری کی پوری زابر کے اوپر سو رہی تھی جبکہ اسے یوں اپنے سے چپک کر سوتا دیکھ زابر سانس لینا بھول گیا تھا اور ساتھ ہی اس کے دل کی دھڑکن رک گئی تھی۔

ابرش کی ایک ٹانگ اس کی دونوں ٹانگوں کو کور کیے ہوئے تھی اور ایک بازو اس کے سینے کو کور کیے تھا جبکہ چہرہ زابر کی گردن میں چھپائے وہ میٹھی نید میں گم تھی۔ آہ اب میں کیا کروں؟؟ اٹھا بھی نہیں سکتا ورنہ شرمندہ خود ہوں گی اور بستر مجھ سے چھینیں گیں۔ زابر ہلکی آواز میں بڑبڑایا کیونکہ مشکل سے ہی تو اسے بیڈ پر سونے کی اجازت ملی تھی۔

اس کی گردن کو چھوتی ابرش کی گرم سانسیں زابر کو بے چین کر رہی تھیں۔ پہلے جہاں ایک دم اس کی سانس رکی تھی اور دل نے دھڑکنا بند کر دیا تھا اب دونوں ہی سنبھلنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن اپنے کانوں تک سنائی دے رہی تھی جبکہ سانس الگ سے بے ترتیب ہو رہی تھی۔ وہ جس طرح سے کروٹ کے بل ل تھا ابرش کی نید خراب ہو جانے کے ڈر سے کافی دیر سے ویسے ہی ل رہا کیونکہ کمبخت نید بھی کہیں دور بھاگ گئی تھی۔

ابرش کے جسم میں حرکت محسوس کرتے اس نے فٹ سے آنکھیں بند کیں تھیں تاکہ اگر وہ اٹھ جائے تو اسے سویا ہوا محسوس کرے۔ تھوڑا سا ہل کر وہ واپس سے سو گئی تھی جبکہ جیسے ہی زابر نے آنکھیں کھولیں وہ پھر سے ساکت ہوا تھا کیونکہ اب ابرش کا چہرہ اس کے چہرے کے بے حد قریب تھا ۔ اتنا قریب کہ اگر وہ زرا سا بھی ہلتا تو اس کے ہونٹ ابرش کے ہونٹوں سے ٹکرا جاتے۔

شاید وہ کوئی اچھا خواب دیکھ رہی تھی تبھی سوتے ہوئے اچانک سے مسکرائی اور اسے غور سے دیکھتے زابر کا دل اس بار الگ انداز میں دھڑکا تھا۔ وقت جیسے رک گیا تھا اور اسے لگا وہ دنیا کا سب سے خوبصورت نظارہ دیکھ رہا ہے۔

وہ اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ اس سے دور ہوتے کروٹ لیتی اپنا رخ بدل گئی جبکہ اس کے دور ہونے اور چہرہ موڑ لینے پر زابر کا دل ایک دم اداس ہوا ایسے جیسے کوئی بچہ اپنی پسند کی چیز ٹوٹ جانے پر یاں نہ ملنے پر اداس ہوتا ہے۔

کافی دیر بے دھیانی میں اس کی کمر کو دیکھتے رہنے کے بعد وہ اٹھ کر بیٹھا اور پاس رکھے ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی بھر کر پیا اور واپس سے ابرش کی جانب رخ کرتا لیٹ گیا۔ ابھی اسے آنکھیں بند کیے پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ ابرش جی پھر سے کروٹ لیتی اس کے ساتھ آکر چپکی تھی جبکہ وہ جو ابھی نید کی وادی میں گم ہو رہا تھا اس کے ساتھ چپکنے پر اس کی نید پھر سے بھاگ گئی تھی لیکن تب سے بے چین دل کو ایک دم سکون آیا تھا۔

وہ نہیں جانتا تھا کیوں مگر اس کے ہونٹوں پر خود بخود مسکراہٹ پھیلی تھی اور اس نے اپنا بازو ابرش کی کمر پر رکھتے اسے اپنے اور قریب کیا تھا۔ یہ سب اس نے بے دھیانی میں کیا تھا مگر جو بھی تھا آج پہلی بار اس نے ابرش کے لیے الگ سے جزبات محسوس کیے تھے۔

* * *

وہ دونوں ناشتہ کر کے فارغ ہوئے تھے اور زیام اپنے کمرے سے گاڑی کی چابی لینے گیا تھا تاکہ اریش کو یونی چھوڈنے جا سکے۔ وہ باہر آیا تو اریش کچن میں کھڑی کچھ کھا رہی تھی لیکن اسے دیکھتے ہی وہ چیز اپنے پیچھے چھپا گئی۔ کیا کھا رہی ہو تم؟؟ ابھی تو ناشتہ کیا ہے تم نے۔ زیام اسے شکی نظروں سے دیکھتا اس کی جانب بڑھا جبکہ اریش اس کی سائیڈ سے گزرنے لگی مگر زیام نے اس کا بازو پکر کر اسے روکا تھا۔ کیا کھا رہی ہو تم؟؟

دیکھاو مجھے کیا ہے اس ڈبے میں؟؟ وہ اریش کے دوسرے ہاتھ میں پکڑے ڈبے تک پہنچنے کی کوشش کرتا بولا جو اس نے کمر کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ ک۔۔چھ نہیں ہے آپ گاڑی سٹارٹ کریں نہ میں آرہی ہوں۔ وہ اپنا نوالہ نگلتی بولی تو زیام کی سونگھنے کی ہس نے کام کیا۔ گاجر کا حلوہ؟؟ تم گا جر کا حلوہ کھا رہی ہو وہ بھی میرے بغیر۔ وہ بے یقینی سے بولا تو اریش نے جلدی سے نہ میں سر ہلایا۔

نہیں کیا نہیں مجھے پتا ہے یہ خوشبو گاجر کے حلوے کی ہے وہ بھی مورے کے ہاتھ کا۔ دو مجھے بھی دو۔ وہ اس کا بازو چھوڈتے بولا مگر جیسے ہی اس نے بازو چھوڈا اریش نے دور لگائی تھی۔ نہیں دوں گی بلکل نہیں دوں گی۔ وہ اس سے دور پہنچ کر پیچھے مڑتی اسے منہ چڑھا کر بولی تو زیام نے اسے گھورا اور اس کے پیچھے بھاگا۔ رکو تم ہوشیار لڑکی۔ وہ اسے رکنے کا کہتا اس کے پیچھے بھاگا جبکہ اس کے پیچھے آنے پر اریش اپنے کمرے کی جانب بڑ ھی۔

کمرے میں پہنچ کر اس سے پہلے وہ دروازہ بند کرتی زیام نے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا اور دروازے کو زور لگا کر کھولتا اندر آیا۔ دیکھیں یہ میرا ہے چاچی نے مجھے دیا ہے۔ وہ ڈبے کو سینے سے لگا کر پیچھے کو قدم لیتی بولی۔ مورے نے ہم دونوں کو دیا ہوگا چلو جلد ی سے مجھے بھی دو۔ تمہیں پتا ہے مجھے مورے کے ہاتھ کا گاجر کا حلوہ کتنا پسند ہے۔ جلدی سے دو مجھے۔

خدا کا خوف ہی نہیں تمہیں تین دن ہو گئے ہمیں گھر آئے ہوئے اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں چکھانا تو دور کی بات ہے۔ وہ اسے گھورتے ہوئے کہتا اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھا گیا۔ نہیں دوں گی پہلے ہی تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ اریش نے پھر سے نہ میں سر ہلاتے کہا۔ تھوڑا سا رہ گیا ہے تو کیا میں نے کیا ہے تھوڑا۔ تم نے ہی کھا کر ختم کیا ہے۔ دو جلدی سے پہلے ہی تمہیں یونی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔

وہ اس کی جانب دو قدم اٹھاتا اور اس کے قریب ہوتا بولا تو اریش پھر سے بھاگنے کی تیاری کرتی اس کے پاس سے پھرتی سے گزر کر بیڈ پر چڑھی مگر زیام بھی اسی سپیڈ سے اس کے پیچھے بیڈ پر چڑھا تھا لیکن بری قسمت کے اس کا پاؤں مڑتے مرتے بچا تھا اور وہ اپنا بیلنس نہ سنبھال پایا جس کی صورت میں وہ اریش کے اوپر گرا تھا۔

ئ یہ تھی کہ اریش نیچے جبکہ زیام اس کے اوپر تھا۔ و۔۔وہ م۔۔یں د۔۔یکھیں آپ اب سیجوئد۔۔دور ہٹیں نہ۔ وہ زیام کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی جبکہ حلوے کا ڈبہ اس کے ہاتھ میں نہیں تھا شاید بیڈ پر ہی کہیں گر گیا تھا۔

شرم دہشت جھجھک پریشانی!

ناز سے کام کیوں نہیں لیتی؟؟

آپ وہ جی مگر یہ سب کیا ہے؟؟

تم میرا نام کیوں نہیں لیتی؟؟

وہ زیام کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی جبکہ اس کی گھبراہٹ زیام کو مزہ دے رہی تھی تبھی اس نے اپنا لہجہ گھمبیر بنا کر جون ایلیاء کا شعر پڑھا جس پر اریش سانس روکے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔ ہاہاہاہا دیکھو زرا خود کو کیسے میرے ایک شعر پڑھنے پر ہی تمہارا دل دھڑکنا بھول گیا۔ وہ اریش کے خود کو بنا پلک چھپکے دیکھنے پر ایک دم ہسیے ہوئے کہتا اس پر سے اٹھا تھا اور سائیڈ پر پڑا ڈبہ اٹھا کر کمرے سے نکل گیا۔ تقریباً دو منٹ تک اریش ویسے ہی لیٹی رہی اور پھر جب زیام کی شرارت سمجھ آئی وہ غصے سے کھڑی ہوتی کمرے سے نکلی لیکن وہاں پر زیام بلکل نہیں تھا۔ اچانک سے بنی مسزز جلدی آجاؤ پہلے ہی تمہیں دیر ہو گئی ہے یونی سے۔

وہ ایدھر ادُھر دیکھتے زیام کو ڈھونڈ رہی تھی جب وہ داخلی درو ازے سے اپنا چہرہ آگے کرتا بولا۔ یقیناً وہ ڈبہ چھپا کر باہر نکل گیا تھا۔ آرہی ہوں سر پر تھوپ دیے گئے شوہر۔ وہ کاٹ کھانے والے انداز میں بولتی اپنا بیگ اٹھا کر گھر سے نکلی تھی جبکہ اس کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر زیام کو مزہ آرہا تھا۔

* * *

گی۔ میں نے سنا ہے وہ دو تین دن تک لاہور آرہا ہے اپنی بی جان کی عیادت کے لیے۔ اس لیے جب وہ لاہور آئے گا تو میں اس سے مل کر اسے ساری حقیقت بتا دوں گی۔

شا ید وہ اپنے دا جان کو بتائے اور جب میرے گھر والوں کو اس بات کا علم ہو تو وہ مجھ سے ناراض ہوں لیکن جو بھی ہوگا کم سے کم ہم دونوں اس مشکل سے تو نکلیں گیں نہ۔

وہ پکے ارادے سے بولی۔ کوئی مشکل تو نہیں ہو گی نہ؟؟ اردل نے پریشانی سے پوچھا۔ تم فکر نہ کرو یار میں کہہ رہی ہوں نہ کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ موم ڈیڈ اور دادا جان ناراض ہوں گے لیکن کوئی بات نہیں وہ مجھ سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتے۔ وہ مسکرا کر بولی تو اردل نے آگے ہو کر اسے گلے لگایا۔ شکریہ افیشن بہت شکریہ۔

وہ بولی تو افسین ہس پڑی۔ یار شکریہ تو مجھے کہنا چاہیے تم نے میری اتنی مدد کی اپنی پرواہ بھی نہیں کی تم نے۔ وہ اس کی کمر تھپتھپاتے ہوئے بولی۔ نہیں یار سچ میں تم اس دنیا میں میرا واحد سہارا ہو تمہارے احسان مجھ پر اتنے ہیں کہ میں مر کر بھی ان احسانوں کو نہیں اتار سکتی۔ وہ محبت بھرے لہجے میں بولی۔ بس کر دو اب تم پرانی باتیں نہ لے کر بیٹھ جانا۔ چلو اگر تمہیں مجھ پر اتنا پیار آرہا ہے اور میرا شکریہ کہنا ہے تو مجھے اپنے ہاتھوں کی بریانی بنا کر کھلا دے۔ وہ اس سے دور ہو کر بولی تو اردل ہس پڑی۔ چلو دونوں مل کر بناتے ہیں۔ وہ کھڑے ہوتے ہوئے اس بھی کھڑ ے کرتے بولی تو وہ برے برے منہ بناتی اس کے ساتھ چل پڑی کیونکہ اسے کچن میں جانے پر موت پڑتی تھی۔

* * *

یار تم نے دیکھا ہے وہ نیا لڑکا جو مائیگریشن کروا کر ایا ہے ہمارے سینئر کی کلاس میں؟؟ ان کا لیکچر فری تھا اور وہ دونوں کلاس میں بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں جب ان کے پیچھے بیٹھی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کی آواز ان کی کانوں سے ٹکرائی۔ ہاں یار وہ کتنا ہینڈسم ہے۔

سنا ہے وہ اپنی یونی کا ٹاپر سٹوڈنٹ تھا۔ دوسری لڑکی بھی پرجوشی سے بولی۔ اے نور کون آیا ہے ایسا لڑکا جسے دیکھ کر سب آہیں بھر ر ہی ہیں۔ اریش نے نور سے آہستہ آواز میں پوچھا تو اس نے کندھے آچکا دیے۔ پتا نہیں مجھے تو بس اتنا پتا ہے کہ احمد بھی مائیگریشن کروا کر آئے ہیں اور ان کا بھی آج پہلا دن ہے۔ نور کے جواب پر اریش چونکی۔ ہیں تمہارا شوہر بھی یہاں آگیا؟؟

اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ ہاں انہوں نے میرے ساتھ ہی آنا تھا یہاں پر لیکن ان کے فائنل میرے بعد تھے اسی لیے تھوڑی دیر سے مائیگریشن ہوئی۔ وہ اسے ڈیٹیل بتانے لگی۔ کہیں یہ تمہارے شوہر کی بات تو نہیں کر رہیں؟؟ دیکھ لو اپنے شوہر کو سنبھال کر رکھنا کہیں یہ لڑکیاں تمہارے شوہر کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔

وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی۔ پھر لیں ان کے پیچھے ہیں تو وہ میرے ہی نہ اور انہیں میرے علاؤہ کوئی لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ تمہیں ایک بات اور بتاؤں ہماری شادی احمد کی طرف سے لو میرج تھی۔ وہ شرماتے ہوئے بولی تو اریش اس کے شرمانے پر ا پنی ہسی روکتی اسے چھیڑنے لگی۔

* * *

سنیں نہ مجھے کل کالج کے بعد بازار لے جائیں مجھے میک اپ لینا ہے۔ وہ بیڈ پر بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا جبکہ رمل اس کے بازو کو پکڑ کر ہلاتی ہوئی اسے شاپنگ پر لیجانے کے لیے منا رہی تھی۔ رمل مجھے تنگ نہ کرو میرا پاس فالتو وقت نہیں ہے کہ تمہیں شاپنگ پر لے کر جاؤں۔

وہ اس کو منع کرتے بولا تو رمل نے منہ بنایا۔ آپ اب ایسے کرو گے میرے ساتھ۔ وہ روٹھے انداز میں بولی تو ازقان نے لمبا سانس کھینچا۔ مجھے بک پڑھنے دو تنگ نہ کرو۔ وہ اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ کو جھٹکتا بولا تو رمل کی آنکھیں آنسوں سے بھریں۔ بہت برے ہیں آپ بہت برے۔ آئی ہیٹ یو رئیلی ہیٹ یو۔ وہ اس کے کندھے پر مکے مارتے ہوئے بولی۔ رمل میں کہہ رہا ہوں تمیز سے بیٹھو ورنہ مجھے غصہ اجائے گا۔

وہ سخت لہجے میں کہتا کتاب کو بند کرکے سائیڈ پر رکھتے اس کی جانب مڑا لیکن اسے روتے ہوئے دیکھ کر اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا۔ اب رونے والی کیا بات ہے؟؟ وہ اب نرم لہجے میں بولا جبکہ رمل نے کوئی جواب نہ دیا۔ رمل رونا بند کرو۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تو اس بار رمل نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ ہاتھ مت لگائیں مجھے نہیں کر رہی میں آپ سے بات۔

وہ سوں سوں کرتے بولی تو ازقان کے چہرے پر اس کی ناراضگی پر مسکراہٹ آئی۔ ارے یار اچھا ٹھیک ہے لے جاؤں گا تمہیں شاپنگ پر جو چاہے لے لینا مگر اب رونا بند کرو نہ۔ وہ آگے کو ہوتے اسے اپنے سینے سے لگا کر بولا جبکہ رمل ابھی بھی ناراض تھی تبھی اس کے سینے پر مکے مارنے لگی۔

وہ بہت کوشش کرتا تھا رمل سے روڈ ہونے کی اس سے بیگانہ ہونے کی لیکن ہمیشہ آخر میں وہ ناکام ہی ہوا تھا کیونکہ یہ چھوٹی سی لڑکی جسے وہ بدلا لینے کے لیے لے کر آیا تھا بہت کوشش کے بعد بھی اسے عزیز ہوتی جا رہی تھی یاں شاید اسے وہ پہلی ملاقات کے بعد ہی عزیز ہو گئی تھی تبھی تو اس کا خیال اس کے زہن سے کبھی گیا ہی نہیں تھا اور شاید بدلہ تو ایک بہانہ تھا اسے بس اسے اپنے نکاح میں لینا تھا۔ تم اتنی جلدی؟ وہ اپنی ورکرز کو ڈیزائن سمجھا رہی تھی اور تبھی زابر کے اچانک آجا نے پر اس سے حیرانگی سے پوچھنے لگی۔ جی وہ آج کام زیادہ نہیں تھا آفس میں تو میں نے جلدی آف لے لیا۔ وہ مسکرا کر جواب دیتا وہاں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ وہاں پر کام کرنے والی چار ورکرز تو اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھیں جس پر وہ مکمل رینس دیتا انہیں مسکرا کر دیکھتے آنکھ ونک کر گیا جس پر وہ چاروں شرما گئیں تھیں۔

ابرش جو اسکے یہاں اچانک آجانے پر خوش تھی اسے ورکرز کے ساتھ فری ہوتے دیکھ اس کا چہرہ غصے سے لال ہوا۔ کیا ہے کوئی تماشہ چل رہا ہے یہاں پر جو تم چاروں کے دانت اندر نہیں جا رہے؟؟ اور کس بات پر شرمایا جا رہا ہے بتانا پسند کرو گی تم چاروں؟؟

محسوس کرتے زابر کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ سوری میم ہم بس ویسے ہی۔۔۔۔۔ ویسے ہی کیا؟؟ کام کے وقت نون سیریس ہونے والے انسان مجھے سخت ناپسند ہیں۔ آخری بار کہہ رہی ہوں یہ بات۔ اب جاؤ تم سب آج جلدی آف دے رہی ہوں میں اپنے گھر جاؤ میں بھی گھر جا رہی ہوں۔ اس کے لہجے میں زرا برابر بھی فرق نہیں آیا تھا جبکہ اس کے چھٹی دیتے ہی وہ چاروں خوش ہو گئی تھیں اور شکریہ میم کہتیں اپنا سامان اٹھا کر اسے خدا حافظ بول کر چلی گئیں۔ ان سب کے جاتے ہی وہ زابر کی جانب مڑی۔

کیا ہوا ایسے گھور کیوں رہی ہیں؟؟ اس کے اب خود کو گھورنے پر وہ انجان بنتا بولا۔ اپنا ٹھرکی پن میری بوتیک سے دور رکھو کیونکہ مجھے یہ کام بی بولی جس پر زابر س د نہیں۔ وہ اسے وارن کرنے والے لہجے میں نے سر کو خم دیتے اوکے باس کہا تھا۔ چلو اب بیٹھے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟؟ گھر نہیں جانا کیا؟؟ وہ اپنا بیگ اٹھا کر زابر کو دیکھتے ہوئے بولی جو ابھی تک صوفے پر بیٹھا تھا۔ نہیں میں تو بس آپ کا ویٹ کر رہا تھا۔ چلیں چلتے ہیں۔ وہ کھڑا ہوتا بولا اور ابرش کو اپنے آگے چلنے کو کہتا اس کے پیچھے ہی بوتیک سے نکلا تھا۔