Chapter 14: قسط 14

وہ کچھ دیر سیگریٹ نوشی کی طلب پوری کرنے کے بعد حویلی کے اندر گیا تو لاؤنچ میں نہ تو رمل تھی اور نہ ہی نصرت اماں تھیں۔ وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگا کہ اس کی نظر نیچے زمین پر پڑے رمل کے ابہيلزر پر گئی جسے اس نے اٹھا لیا تھا اور پھر سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی بیڈ پر رمل کو نصرت اماں کے گلے لگ کر آنسوں بہاتے پایا۔ اماں میرے سر میں درد ہو رہا ہے مجھے قہوہ بنا دیں۔ وہ سر مسلتے ہوئے بولا تو رمل خود بخود نصرت اماں سے دور ہو کر بیٹھ گئی۔ میں ابھی بنا کر لاتی ہوں بیٹا۔

وہ رمل کے پاس سے اٹھ کر ازقان سے بولیں اور کمرے سے جانے لگیں مگر ازقان نے انہیں روکا۔ اماں اس کے لیے کھانا بھی لے آئیے گا جو یہ مانگ رہی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اماں سے بات کرتے اس کا لہجہ نرم اور عزت بھرا تھا۔ اس کے کہنے پر اما ں سر ہلاتیں کمرے سے نکل گئیں جبکہ ازقان کی نگاہوں کا مرکز رمل کا وجود ہوا۔

کیا تم چپ کر سکتی ہو؟؟ میرے سر میں پہلے ہی درد ہو رہا ہے۔ رمل کو لگاتار روتے دیکھ وہ چڑ کر بولا تو رمل نے سوں سوں کرتے اپنا جھکا سر اٹھایا۔ مجھے رونا آرہا ہے تو میں کیا کروں؟؟ وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح بولی۔ میرے ساتھ زیادہ زبان نہ چلاؤ اور چپ کرو کیونکہ مجھے ارنيیش ن ہو رہی ہے۔ رمل کے رونے کی آواز بلند ہوئی۔ آ۔۔اپ بہت برے ہیں آپ بلکل اچھے نہیں ہیں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے مجھے ڈانٹتے ہوئے۔ کوئی اپنی چھوٹی سی بیوی کو ایسے ڈانٹتا ہے کیا؟؟؟

وہ بھی تب جب وہ چھوٹی سی بیوی میں ہوں یعنی کیوٹ اور پیاری۔ وہ انسوں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی جبکہ موٹے موٹے آنسوں گالوں پر بہہ رہے تھے۔ ازقان جس کے چہرے پر پہلے سخت تاثرات تھے رمل کی بات پر خودبخود چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر وہ چہرہ موڑ کر اپنی مسکراہٹ اس سے چھپا گیا۔

اچھا ٹھیک ہے اتنا معصوم منہ بنا کر نہ دیکھو مجھے۔ وہ واپس چہرہ سیریس کرتا اس کی جانب رخ کرتے بولا ۔ لالا کہتے اب مجھے یہا ں ہی رہنا ہے کیونکہ آپ میرے شوہر ہیں۔ وہ اپنے آنسوں کو صاف کرتی ہونٹ باہر نکال کر بولی تو ازقان کا دل الگ لہہ پر دھڑکا۔

تو کیا پھر تم اپنے لالا کی بات مانوں گی؟؟ اس کا دل کیا رمل سے بات کرنے کے لیے اس لیے اس کی بات کو آگے بڑھانے کے لیے پوچھنے لگا۔ ان کی بات کبھی نہیں ٹالتی میں اب بھی یہاں اسی لیے ہوں کیونکہ میرے لالا نے کہا ہے مجھے۔

اس نے پہلے والے انداز میں ہی کہا۔ سوچ لو میں بہت غصے والا ہوں اور میں اپنا غصہ تم پر ہی نکالوں گا ۔ اس نے اسے ڈرانہ چاہا۔ لالا کہتے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ آپ نہیں کریں گے نہ ایسے؟؟ ہے نہ؟؟ اس بار بات کے آخری فقرے پر ہونٹوں کا پاوٹ بنایا گیا تو ازقان نے کی گردن کی ہڈی ڈوب کر ابھری۔

ہونٹوں کو تو ٹھیک کرو۔ اس نے رمل کے ہونٹوں پر دو انگلیاں رکھتے کہا مگر جیسے ہی رمل کے ہونٹوں کو اس کی پوروں نے چھوا تو دل کا حال ایسا ہوا کہ جیسے ابھی باہر آجائے گا اور یہی حال رمل کا ہوا۔ م۔۔ج۔۔مجھے باتھ روم جانا ہے۔

رمل گھبرا کر کھڑی ہوتی بولی اور باتھ روم کی جانب بڑھ گئی جبکہ ازقان نے اس کے جاتے ہی دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر لمبے لمبے سانس لیے۔ یہ کیا ہو رہا ہے میرے دل کو؟؟ پہلے تو ایسے کبھی نہیں ہوا۔ وہ خود سے بڑبڑایا جبکہ یہی الفاظ باتھ روم کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر لمبی لمبی سانس لیتی رمل کے تھے۔

* * *

اسے رستے میں ہی زیام کا فون آیا تھا جو پریشانی سے رمل کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اسے بی جان کے بارے میں سن کر دا جان پر غصہ آیا کہ انہوں نے آخر کیوں وہاں بتا کر بی جان کو پریشان کیا۔ زیام کو رمل کے بارے میں بے فکر کرتے اس نے بی جان کو بھی رمل کی خیریت بتانے کی تلقین کی تھی۔ نہیں تھا۔ وہ جیسے ہی حویلی پہنچا لان میں ہی دا جان مہرین بیگم اور سفیان خان مل گئے جو شاید اس کا انتظار کرتے وہاں پر موجود تھے۔

آدیان میری رمل؟؟ رمل کہا ں ہے؟؟ اسے اکیلے آتے دیکھ مہرین بیگم بھاگ کر باہر کی جانب گئیں مگر وہاں پر بھی رمل کو نہ پا کر واپس اندر اس کے پاس آتیں بے چینی سے پوچھنے لگیں مگر وہ چپ رہا۔ بولو نہ بیٹا میری رمل کہاں ہے؟؟ تم تو لینے گئے تھے نہ رمل کو پھر لے کر کیوں نہیں آئے؟؟ روتے ہو ئے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھتے ممتا کی ترپ ان کے ہر عمل سے ظاہر ہو رہی تھی۔ جواب دو آدیان کہاں ہے رمل چپ کیوں ہو؟؟ دا جان نے بھی پوچھا جبکہ سفیان خان کی آنکھوں میں بھی وہی سوال تھا۔ میں نہیں لایا اسے وہ وہاں پر ٹھیک ہے۔ اس نے سنجیدگی سے کہا تو ان تینوں کو جھٹکا لگا۔ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟؟ تم کیسے رمل کو اس کے پاس چھوڈ کر ا سکتے ہو؟؟ دماغ خراب ہو گیا ہے کیا تمہارا جو اپنے دشمن کے گھر پر اسے چھوڈ آئے ہو؟؟ دا جان غصے سے پاگل ہوتے بولے۔ وہ جو میرا دشمن ہے اس وقت رمل کا شوہر ہے اور میرے خیال سے بیوی اپنے شوہر کے گھر ہی اچھی لگتی ہے۔ آدیان نے تحمل سے بتایا مگر اس کا تحمل ان تینوں کے اوپر بجلی گرا گیا تھا۔ ش۔۔شو۔۔ہر؟؟ مہرین بیگم نے اٹکتے اٹکتے کہا۔ جی شوہر کیونکہ میرے جانے سے پہلے وہ رمل کو اپنے نکاح میں لے چکا تھا۔ میں اسے واپس لے آتا مگر میں نے دیکھا وہ رمل کی بہت فکر کر رہا تھا اس کا خیال رکھ رہا تھا تو میں رمل کو واپس نہیں لایا کیونکہ میرے خیال سے وہ وہاں پر ٹھیک ہے اور خوش رہے گی۔

اس لیے آپ سب سے کہہ رہا ہوں کہ فکر نہ کریں وہ بلکل ٹھیک ہے۔ وہ بول کر آگے بڑھنے لگا مگر سفیان خان جو تب سے چپ کھڑے تھے اس کو روک کر اس کے سامنے آئے۔ تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے کہ میری بیٹی کہاں پر رہے گی؟؟ کس کی اجازت سے تم نے اسے وہاں پر اس آدمی کے پاس چھوڈنے کا فیصلہ کیا؟؟

میں تمہیں کہہ رہا ہوں آدیان جا کر ابھی کہ ابھی میری بیٹی کو واپس لاؤ۔ اس کا باپ ہے اس کا بہتر فیصلہ کرنے کے لیے۔ وہ غصے سے اس پر چیختے بولے تو آدیان جو تب سے پرسکون کھڑا تھا جیسے اب اس کے خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی حد ہوئی تھی اور اس نے اپنی مٹھیاں غصے سے میچ لیں۔ میں نہیں لاؤں گا اسے واپس اور نہ ہی کوئی اور اسے لائے گا۔ اس نے دانت پیستے کہا تو سفیان خان نے اس پر غصے سے ہاتھ اٹھایا مگر وہ راستے میں ہی ان کا ہاتھ روک گیا۔ بس بہت ہو گیا مسٹر سفیان خان۔ میں تب سے خود پر کنٹرول کر رہا ہوں مگر اب بس انتہا ہو گئی۔ کس کے سامنے اپنی یہ فکر دیکھا رہے ہیں؟؟

کیا کہہ رہے ہیں باپ ہے ابھی اس کا۔ واہ کیا بات کہی آپ نے۔ کبھی باپ بن کر دیکھایا بھی ہے آپ نے؟؟ کوئی باپ والی زمہداری نبھائی بھی ہے آپ نے؟؟ آپ نہ میرے باپ بن سکے نہ رمل کے اس لیے میرے سامنے اپنے یہ ڈرامے بند کریں کیونکہ میں آپ کے ان ڈراموں میں نہیں آؤں گا۔ وہ ان پر چیختا بو لا تو سفیان خان کے ساتھ دا جان مہرین بیگم بھی اس کے رویے سے حیران ہوئے۔ کیا بول رہے ہو؟؟ سفیان خان نے اپنا ہاتھ چھوڈا کر کہا تو آدیان کا غصہ بڑھا۔ بتا دوں کہ کیا کہہ رہا ہوں چلیں پھر سنیں آپ دونوں بھی۔ ان سے پوچھیں کہ آج یہ شہر کیوں گئے تھے؟؟؟؟

وہ دا جان اور مہرین بیگم کو دیکھتا بولا تو سفیان خان کے چہرے کا رنگ اڈا جبکہ وہیں ان دونوں کے چہرے پر نا سمجھی کے تاثرات آئے۔ یہ تو بتائیں گے نہیں آپ کے پوچھنے پر بھی تو میں ہی بتا دیتا ہوں آپ دونوں کو کہ یہ آپ کے بیٹے مسٹر سفیان خان جو ابھی اپنی بیٹی کے لیے فکر جتا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس کے لیے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں تو ان کا فیصلہ یہ تھا کہ آج یہ شہر اسی بیٹی کا رشتہ اپنے سے صرف چھ سال چھوٹے اپنے دوست سے تہہ کرنے گئے تھے۔

کڑور کی پراپرٹی

اور شادی کی شکل میں بیٹی کا سودا کرتے انہوں نے اس دوست سے بح اپنے نام لگوانے کا وعدہ لیا ہے۔ آدیان کے الفاظ پر دا جان اور مہرین بیگم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں اور دونوں نے اسی حیرت اور بے یقینی سے سفیان خان کی جانب دیکھا جن کے چہرے کے رنگ اڈے ہوئے تھے۔

ی۔۔یہ ک۔ک۔۔یا بول رہے ہو؟؟ ب۔۔بکواس بند کرو تم۔ وہ گھبراہٹ چھپاتے بولے۔ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟؟ کیا سچ میں؟؟ میرے خبری نے مجھے بتایا ہے اس لیے میرے پاس گواہ بھی ہے اور وڈیو بھی جس میں آپ اپنے دوست سے رمل کی شادی کروانے کا وعدہ کر رہے ہو۔

وہ پر اعتمادی سے بولا تو سفیان خان کو بولنے کو کچھ نہ ملا او ر وہ نظریں چرانے لگے مگر تبھی ایک زور دار تماچہ ان کے گال پر پڑا تھا۔ انہوں نے حیران ہو کر دا جان کی جانب دیکھا جنہوں نے انہیں تماچہ مارا تھا۔ مجھے پتا تو تھا کہ تم بہت خود غرض ہو مگر اس حد تک خود غرض ہو جاؤ گے یہ نہیں سوچا تھا۔ دا جان نفرت سے انہیں دیکھتے بولے جبکہ مہرین بیگم بھی بے یقینی سے ہی انہیں دیکھ رہی تھیں۔ ہاں ہوں میں خود غرض اور میں نے اپنے دوست سے پراپرٹی کے بدلے رمل کی شادی کروانے کا وعدہ کیا ہے اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہے کیونکہ آپ نے ساری دولت ساری جائیداد آدیان کے نام کر کے مجھے کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ میں آپ کا بیٹا ہوں آدیان سے پہلے میرا اس ساری جائیداد پر حق تھا۔ وہ بھی آگے سے اپنے اندر کی جلن اور غصہ اتارتے چیخے مگر افسوس اس بات پر تھا کہ وہ شخص اپنے بیٹے سے ہی جلن رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تمہارے نام کچھ نہیں لگایا میں نے کیونکہ تمہارے اندر جو پیسے کا لالچ ہے نہ وہ ہم سب کو سڑک پر لے آتا۔ لانت ہو تم پر سفیان کہ تم اپنے بیٹے سے جلن رکھتے ہو۔

دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے اور دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل مت دیکھا نا۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ دا جان پوری شدت سے چیخے یہاں تک کہ یوں چیخنے سے ان کا پورا وجود کانپ گیا تھا۔ دا جان پلیز آپ کی طیعیٹ خراب ہو جائے گی۔ آدیان نے دا جان کو کندھوں سے تھام کر کہا جبکہ سفیان خان پاؤں پٹختے وہاں سے چلے گئے تھے۔ م۔۔میری رمل تو ٹ۔۔ٹھیک ہے نہ؟؟

وہ لڑکا اس کے ساتھ برا سلوک تو نہیں کرے گا نہ؟؟ سفیان خان کے جاتے ہی مہرین بیگم جو اپنے شوہر کی اصلیت جان کر اور زیادہ نڈھال ہو گئی تھیں اچانک سے آدیان سے بولیں۔ جی وہ ٹھیک ہے کیونکہ وہ ازقان کے پاس ہے اور وہ لاکھ مجھ سے نفرت کرے مگر وہ رمل کو بہت خوش رکھے گا یہ میں پورے اعتماد سے کہتا ہوں۔ میرا یقین کریں آپ لوگ۔

اس نے پہلی بار مہرین بیگم کو نرمی سے جواب دیا تھا جبکہ اس کا جواب سن کر انہوں نے اپنے انسوں پونچھ لیے تھے اور مسکرائیں۔ شکریہ بیٹا آج تمہاری رمل کے لیے فکر اور محبت دیکھ میں جا ن گئی ہوں تم اس کے لیے کبھی غلط فیصلہ نہیں کرو گے۔

لیکن کیا تم مجھے رمل سے ملوانے لے جاؤ گے؟؟ انہوں نے اس پر یقین جتایا اور آخر میں ان کا لہجہ التجا کرنے والا تھا۔ ان کے پوچھنے پر وہ کچھ دیر تو چپ رہا پھر اس نے سر ہلایا۔ ٹھیک ہے میں کل اسے اس کی چیزیں دینے جاؤں گا تو آپ دونوں بھی اس سے مل آئیے گا۔ اس نے پہلے کی طرح نرمی سے کہا تو وہ خوش ہوگئیں۔

اور دا جان آپ پلیز بی جان کو فون پر رمل کے بارے میں تسلی دیں کیونکہ آپ سے اس کے بارے میں سن کر وہ پریشانی کی وجہ سے بی پی ہائی کروا کر ہاسپٹل پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ اندر کی جانب جانے لگا مگر ایک دم رک کر دا جان سے بولا جبکہ اس کی بات سن کر دا جان نے جلدی سے اپنا موبائل نکالا تھا تاکہ بی جان کو کال کر سکیں۔

دا جان کی کال آنے کے بعد بی جان کی طیعیٹ کچھ سنبھلی تھی اور باقی سب کو بھی سکون کا سانس آیا تھا ۔ بی جان کو تو اسی وقت رمل سے بات کرنی تھی مگر دا جان نے کل بات کروانے کا وعدہ لیتے کال کٹ کر دی تھی۔ جہاں آدیان کا رمل کے لیے پیار اور سفیان خان کے بارے میں جان کر سب لوگ یقین نہ کر پائے تھے وہیں رمل کے خیر سے ہونے کا سن کر بے فکر ہو گئے تھے مگر اریش کو چھوڈ کر۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟؟

کہا تو ہے دا جان نے کہ وہ ٹھیک ہے اور جب آدیان نے گواہی دی ہے کہ وہ خوش رہے گی ازقان کے ساتھ تو پھر تم کیوں پریشان ہو؟؟ بی جان گھر اچکی تھیں اور وہ کافی دیر بی جان کے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا تاکہ ان کا دل بہل جائے۔ بی جان کے سونے کے بعد وہ جب کمرے میں ایا تو اریش کو ابھی تک پریشان دیکھ کر بولا۔

وہ سب ٹھیک ہے مگر میں کیا کروں مجھے اس کی پھر بھی فکر ہو رہی ہے۔ ضروری تو نہیں کہ آدیان لالا کا فیصلہ ٹھیک ہو اور وہ آدمی رمل کے ساتھ برا رویہ نہ رکھے۔ کیا پتا وہ بدل گیا ہو اور پہلے جو وہ عورت کی عزت کرتا تھا اب نفرت اور دشمنی میں سب عزت بھول جائے۔ اریش فکرمندی سے بولی۔ دیکھا جائے تو وہ ٹھیک کہہ رہی تھی کیونکہ انسان کا کیا بھروسہ ہے کبھی بھی بدل سکتا ہے۔ بات تو سہی کہہ رہی ہو تم مگر آدیان نے کچھ سوچ کر ہی فیصلہ لیا ہو گا کیونکہ جس طر ح دا جان نے بتایا کہ وہ رمل کی فکر کر رہا تھا اور اس کے رویے سے پتا چل رہا تھا کہ وہ رمل سے کس حد تک محبت کرتا ہے تو اس حساب سے وہ کبھی بھی اپنی بہن کے لیے غلط فیصلہ نہیں کرے گا۔

وہ بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھتا بولا۔ جانتی ہوں میں یہ سب آخر مجھ سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ آدیان لالا کس حد تک رمل سے پیار کرتے ہیں۔ جان بستی ہے ان کی رمل میں۔ اس کی ایک چھینک پر پریشان ہو جاتے ہیں وہ۔ اس لیے اس کا بہتر سوچیں گے مگر کیا کروں دوست ہے نہ میری وہ اس لیے فکر ہو رہی ہے۔

وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے بولی مگر اس کی بات سن کر زیام نے حیرت سے اسے دیکھا۔ کیا تم پہلے سے جانتی تھی ان دونوں کے سیکرٹ کو؟؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا تو اریش نے اس کی حیرانگی پر مسکراہٹ چھپائی اور ہاں میں سر ہلایا۔ جی جانتی تھی مگر شروع سے نہیں بس کچھ ہی عرصہ ہوا تھا مجھے پتا چلے۔

وہ بولی جبکہ زیام ی ہو تم۔ ان کے ماں باپ کو بھی نہیں پتا تھا اور تم جانتی تھی مگر تم نے کسی کو نہیں بتایا۔ وہ بولا تو اریش ہس پڑی۔ میں اچھی راز دار ہوں نہ اس لیے میں نے ان کا راز کسی کو نہیں بتایا۔

آدیان لالا کو ڈر تھا کہ اگر کسی کو پتا چل گیا کہ رمل ان کی کمزوری ہے تو انہیں اس کے نام پر بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ اب آپ کے سامنے ہی ہے کہ کیسے ان کا ڈر سہی ثابت ہوا ہے اور آپ جانتے تو ہیں ان کو اپنے بابا اور سوتیلی ماں پر یقین بھی نہیں ہے۔

اس نے نہ بتانے کی وجہ بتائی۔ سہی کہہ رہی ہو اب سفیان تایا کو دیکھ لو توبہ ہے کوئی ایسے کیسے کر سکتا ہے اپنی بیٹی کے ساتھ۔ تم دیکھنا جب میری بیٹی ہو گی نہ تو میں اس کو شہزادیوں کی طرح رکھوں گا۔ اپنی وجہ سے اس کی آنکھ میں ایک انسوں بھی نہیں آنے دوں گا۔ اس کی ہر خواہش پوری کروں گا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا تو ناجانے کیوں بیٹی کے زکر پر اریش کے گال لال ہوئے اور زیام کی بیٹی کے لیے ابھی سے محبت اور خواہش دیکھ کر دل میں عجیب سی گدگدی ہوئی۔ تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں لال ہو رہی ہو؟؟ اریش کے لال گال دیکھ کر وہ بولا تو اس نے اپنی گالوں پر ہاتھ رکھے۔۔

ن۔۔نہی۔۔نہیں تو میرے گال تو ویسے ہی لالا رہتے ہیں آپ نے ابھی غور کیا۔ وہ گھبرا کر بولتی بیڈ سے کھڑی ہوئی۔ کہاں جا رہی ہو؟؟ اسے کمرے سے جاتے دیکھ اس نے پوچھا۔ زاری کے پاس جا رہی ہوں کل تو ہم نے پھر اسلام آباد چلے جانا ہے اس لیے کچھ دیر اس کے ساتھ وقت گزار لوں۔ وہ دروازے کے پاس کھڑی ہو کر بولی اور پھر کمرے سے نکل گئی جبکہ زیام بھی اٹھ کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا تاکہ کپڑے چینج کر سکے۔

* * *

آج میں نے تمہاری خواہش پوری کر دی مگر اگلی بار سے جو بنے گا وہ چپ چاپ کھا لینا کیونکہ مجھے کسی کا نخرے دیکھانا بلکل پسند نہیں اور نہ ہی میں کسی کے نخرے اٹھاتا ہوں اس لیے اگر یہاں رہنا ہے تو اپنی خواہشوں کو مار کر رہنا پڑے گا۔ کھانا ان دونوں نے ڈائنگ ٹیبل پر ہی کھایا تھا اور جیسے ہی رمل نے کھانا ختم کیا وہ جو اس سے پہلے ہی کھانا ختم کر چکا تھا مگر شاید اس کو اپنی بات کہنے کو ہی وہاں پر بیٹھا تھا بڑے ہی سخت اور روعب بھرے لہجے میں بولا۔

کیوں جی؟ کیوں میں اپنی خواہشوں کو مار کر رہوں؟؟ میں تو ایسا بلکل نہیں کروں گی کیونکہ مجھے زندگی کو جینا ہے گزارنا نہیں۔ میں نے ایک تو اپنی قسمت سمجھ کر آپ کو اپنا شوہر تسلیم کر لیا اوپر سے آپ کہہ رہے ہو کہ اپنی خواہشات کو مار دوں۔ میں بتا دوں آپ کو میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔ خواہشوں کو مار کر زندگی جینے کو زندہ رہنا نہیں کہتے۔

اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کو مارنے کے بعد زندہ ہوتا ہے نہ تو وہ صرف ایک زند ہ لاش ہوتا ہے۔ وہ شخص اپنے اندر ہی مار دی گئی خواہشوں کی چلتی پھرتی قبر ہوتا ہے۔ اور مجھے ایک انسان بن کر رہنا ہے قبر بن کر نہیں۔ رمل نے کچھ زیادہ ہی ایموش ہوتے ہوئے بولتے آخر میں ازقان کی جانب دیکھا تو وہ منہ کھولے بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟؟

اس نے اسے خود کو ایسے دیکھنے پر پوچھا۔ میری بات پر اتنا ایموش اور لمبا لیکچر بنتا تو نہیں تھا۔ اس نے تاسف سے سر ہلاتے کہا تو رمل نے دانت نکالے۔ ہی ہی ہی پتا کیا مجھے بہت شوق ہے موٹیویشنل سپیکر بننے کا اسی لیے میں کبھی کبھی ایسے لیکچر دے دیتی ہوں۔ وہ آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی تو ازقان لمبا سانس لیتے کرسی سے اٹھا اور کمرے کی جانب چل پڑا جبکہ رمل بھی اس کے پیچھے ہی تھی۔ اس نے بایا اتار دیا تھا اور اس وقت کالج یونیفارم میں ہی تھی۔ میں سونے لگا ہوں تم بھی سو جاؤ۔ وہ کمرے میں آکر بیڈ پر لیٹ کر بولا جبکہ رمل بیڈ کے پاس کھڑی اپنی انگلیوں کو آپس میں الجھانے کا کام کر رہی تھی۔ کیا ہے اب وہاں کھڑی کیا کر رہی ہو؟؟

اس نے رمل کو ویسے ہی کھڑے دیکھ پوچھا۔ و۔۔وہ میں کہاں سوں گی؟؟ اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا تو ازقان نے اپنی دائیں آئی برو اچکاتے اسے دیکھا۔ کیا مطلب کہاں سونا ہے؟؟ ظاہر سی بات ہے یہاں بیڈ پر سونا ہے۔ وہ بیڈ پر اپنی دوسری سائیڈ کی جانب اشارہ کرتا بولا۔ م۔۔جھے شرم آئے گی اور نید نہیں آئے گی۔

وہ نظریں جھکائے گلابی گالوں کے ساتھ شرم بھرے لہجے میں بولی تو ازقان نے اپنی ہ سی چھپائی۔ نہیں آئے گی شرم اگر آرہی ہے تو سائیڈ پر رکھ لو کیونکہ اب سونا تو یہیں ہے تم نے اس لیے چپ چاپ آکر ہچکچاہٹ سے پوچھا۔

کچھ دیر پہلے ٹر ٹر بولنے والی رمل اور اس وقت اس کے سامنے کھڑی ہچکچاتے ہوئے بولتی رمل میں بہت فرق تھا۔ ہاں پوچھو جلدی کیونکہ پھر مجھے سونا ہے۔ اس نے بے دلی سے کہا۔ وہ کیا آپ میری میرے لالا سے بات کروا دیں گے؟؟ اس نے ایک آس سے پوچھا جبکہ اس کی بات پر ازقان کے چہرے پر تناؤ آیا۔

اپنے لالا کو تو بھو ل جاؤ تم کیونکہ میرے گھر اس کا زکر بھی مجھے پسند نہیں۔ اس نے غصے سے کہا تو رمل کے چہرے پر اداسی چھا گئی مگر تبھی ازقان کا فون رنگ ہوا۔ اس نے فون اٹھایا تو اس کے چہرے پر غصے اور بےزاری کے تاثرات آئے جبکہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رمل کو فوراً پتا چل گیا کہ کس کا فون تھا۔

ایسا تھوڑی ہو سکتا تھا کہ وہ اپنے لالا کو یاد کرے اور اس کے لالا اسے یاد نہ کریں۔ اس سے پہلے ازقان کال کٹ کرتا رمل تیر کی تیزی سے اس کے پاس جاتی اس کا فون پکڑ چکی تھی۔ رمل نے کب اچانک اس سے فون پکڑا اسے پتا ہی نہ چلا جب تک پتا چلا تب تک وہ کال کو یس کرتے فون کو کان کے ساتھ لگا چکی تھی۔

ہیلو لالا کیسے ہیں؟؟ اس نے ازقان کی پہنچ سے دور ہوتے بے چینی سے پوچھا جبکہ ازقان خطرناک ارادوں سے اس کی جانب آیا تھا۔ میں ٹھیک ہوں میری گڑیا تم بتاؤ تم کیسی ہو؟؟ میں ٹھیک ہوں لالا مگر یہ مجھے آپ سے بات کرنے نہیں دے رہے اور مجھے گھور رہے ہیں۔ وہ ازقان کو دیکھ کر بولتی پیچھے کو قدم لینے لگی۔ فون دو مجھے۔ اس سے پہلے آدیان کچھ بولتا ازقان کی بھاری آواز بھی اسے فون کے سپیکر سے سنائی دی۔

نہیں مجھے لالا سے بات کرنی ہے۔ رمل نے نہ میں سر ہلاتے فون پر پکڑ مضبوط کی۔ میں نے کہا فون پکڑاو مجھے۔ ازقان نے اس بار بے حد غصے سے کہا یہاں تک کہ اس کے غصے سے رمل کانپ گئی۔ پ۔۔پل۔۔۔پلیز مجھ۔۔۔ے بات کرنی ہے لالا سے۔ وہ ڈرتے ہوئے بولی جبکہ اس کی آواز رونے والی ہو گئی تھی۔

رمل میری جان کیا تم ٹھیک ہو؟؟ آدیان نے فکر مندی سے پوچھا جبکہ رمل نے اس کی آواز نہیں سنی تھی وہ تو ڈرتے ہوئے خود کو گھورتے ازقان کو دیکھ رہی تھی اور اب تو اس کی آنکھوں سے آنسوں بھی گرنے لگے تھے۔ رمل کو یوں خود سے ڈر کر روتے دیکھ اسے بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔ یہ پہلی اور آخری بار ہے۔

وہ چاہ کر بھی اس پر پھر سے غصہ نہ کر پایا اس لیے اسے ایک ہی فکرے سے اجازت کے ساتھ ساتھ وارن بھی کرتا بیڈ کی جانب واپس چلا گیا جبکہ رمل نے اپنے آنسوں کو صاف کیا تھا۔ آدیان جسے رمل کے لیے فکر ہوئی اور وہ فوراً ازقان کی حویلی جانے کا سوچ کر گاڑی کی چابی اٹھا چکا تھا از قان کی آواز پر رکا۔

اسے پہلے لگا کہ اس نے غلط فیصلہ کر لیا مگر پھر ازقان کے ماننے پر وہ وہیں رک گیا۔ ہاں اس کا فیصلہ ٹھیک تھا ازقان اس کی گڑیا کو ہرٹ نہیں کر سکتا تھا۔ رمل کیا تم ٹھیک ہو میری جان؟؟ اس نے پھر سے پوچھا۔ جی لالا میں ٹھیک ہوں پر میں آپ کو بتا دوں میرے شوہر بلکل اچھے نہیں ہیں۔ اس نے روٹھے لہجے میں ازقان کی شکایت لگائی تو آدیان اور ازقان دونوں کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے مگر وہ دنوں کی مسکراہٹ نہ دیکھ سکی۔ میں کر لوں گا تمہا رے شوہر کا علاج بھی۔ وہ ہس رہا تھا مگر سیریس ہو کر بولا کیونکہ اگر وہ ہس کر بولتا تو رمل ناراض ہو جاتی۔

* * *

اس کی فجر کے وقت آنکھ کھلی تو رمل آدھے سے زیادہ اس کے اوپر لیٹی ہوئی تھی۔ اسے نہیں پتا کہ کب وہ آدیان سے بات ختم کر کے اس کے ساتھ آ کر لیٹی مگر اب اسے دیکھ کر اسے اتنا تو پتا چل گیا تھا کہ وہ بہت بے تکا سوتی تھی۔ رات وہ اسے کہہ رہی تھی کہ شرم آئے گی اور نید نہیں آئے گی مگر یہاں تو سب الٹا تھا کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ اسے شرم آرہی ہے اور نید نہیں۔

سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر وقت دیکھا تو نماز کا وقت ختم ہونے میں مجظ آدھا گھنٹا باقی تھا۔ اس کا دل بلکل نہیں کر رہا تھا اس نازک وجود کو خود سے دور کرنے کا مگر نماز بھی ضروری تھی۔ کہیں وہ اپنے سونے کے طریقے پر شرمندہ نہ ہو اس لیے پہلے بڑے آرام سے اس کی ٹانگیں اور بازو اپنے اوپر سے ہٹاتے وہ بیڈ سے کھڑا ہوا اور واش روم جا کر وضو کر کے باہر نکلا۔

کہنی تک چڑھائے بازوں کے سلیو کو نیچے کرنے کے بعد اس نے رمل کا بازو پکڑ کر ہلایا۔ اے لڑکی اٹھو اور نماز پڑھ لو۔ اس کا لہجہ سخت تھا کیونکہ اسے نرم لہجہ اختیار کر کے اس لڑکی کو سر پر نہیں چڑھانا تھا۔ ازقان کے اٹھانے پر رمل نے نید سے بھری آنکھیں مشکل سے کھولیں اور ازقان کو دیکھا۔ ج۔۔جی کیا ہوا؟؟

اس نے نید سے بھری آواز میں پوچھا۔ نماز پڑھ لو وقت کم رہ گیا ہے اس کی خمار بھری نگاہوں سے نظریں چراتے وہ بولا اور کمرے سے نکل گیا جبکہ نما ز کے لیے کم وقت کا سن کر اس کی نید بھی بھاگی تھی اور وہ فوراً بیڈ سے اتر کر واش روم میں گھس گئی۔