جلدی کر لیں دیر ہو رہی ہے مجھے۔ وہ ناشتہ ٹیبل پر لگا کر یونی کے لیے تیار ہو کر بھی آگئی تھی مگر زیام صاحب کمرے سے ابھی تک نہیں نکلے تھے اسی لیے وہ اب تیسری مرتبہ اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اونچی آواز میں بولی۔ کیا مسلہ ہے تمہیں سونے کیوں نہیں دے رہی مجھے؟؟
وہ دروازہ کھول کر رف حلی میں نید سے بھری آنکھیں مشکل سے کھولتا اسے غصے سے بولا۔ اس کا لہجہ بہت زیادہ سخت تھا۔ م۔۔مجھے یونی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ وہ زیام کے غصہ کرنے پر ڈر گئی تھی تبھی ہلکی آواز میں بولی۔ میں نے ٹھیکا نہیں اٹھایا ہوا تمہیں چھوڈنے جانے کا۔ ہاتھ پیر آنکھیں اور دماغ سلامت ہے تمہارا اس لیے جاؤ جا کر سڑک سے کوئی رکشہ یاں ٹیکسی لو اور یونی چلی جاؤ۔
خبردار جو مجھے دوبارہ جگایا۔ عجیب مصیبت گلے ڈال دی ہے میرے بی جان نے۔ وہ اسی لہجے میں اسے بولتا کمرے میں واپس جا کر دروازے کو زور سے بند کر گیا جبکہ وہ جو پہلے ہی ڈری تھی اس کے یوں دروازہ زور سے بند کرنے پر پوری کانپ گئی۔
آنکھوں سے آنسوں نے بہنا شروع کیا تھا اور خوبصورت گلابی ہونٹ کانپ رہے تھے۔ وہ پہلے بھی ایسے ہی ڈانٹتا تھا لیکن نکاح کے بعد زیام نے پہلی بار یوں بات کی ورنہ وہ نکاح سے اعتراض رکھنے کے باوجود اس پر غصہ کرنا بند کر چکا تھا۔ اس کا کھانے سے دل اکتا گیا اور وہ ویسے ہی کھانے کو ٹیبل پر چھوڈ اپنا بیگ اور فون اٹھا کر گھر سے نکل گئی۔
* * *
ابرش کی آنکھ کھلی تو اس کا سر ابھی بھی زابر کی گود میں تھا۔ شرم سے اس کے گال لال ہوئے تھے۔ افف ابرش کیا کر دیا تم نے۔ وہ دل ہی دل خود کو کوستی آہستہ سے اپنا سر زابر کی گود سے اٹھاتی بیڈ سے اتر گئی۔ اس کے اٹھنے پر زابر کی بھی نید ٹوٹ گئی تھی۔ وہ ساری رات بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھے سویا تھا۔
اوہ آپ اٹھ گئیں؟؟ سر درد کیسا ہے اب تو نہیں ہو رہا نہ؟؟ اس ابرش کو دیکھ کر پوچھا جبکہ وہ تو اس سے نظریں بھی نہیں ملا رہی تھی۔ ہ۔۔ہاں اب نہیں ہے درد شکریہ تمہارا اور سوری کیونکہ میری وجہ سے تمہاری رات بے چین رہی۔ اس نے بنا اس کی جانب دیکھے ڈریسنگ ٹیبل کی چیزوں سے چھڑ چھاڑ کرتے کہا۔
ارے نہیں آپ سوری نہیں کریں مجھے عادت ہے اس کی۔ اریش بھی ایسے ہی سو جاتی تھی اور میں ساری رات ایسے بیٹھا رہتا تھا۔ اس لیے شرمندہ نہ ہوں مجھے عادت ہے۔ وہ بیڈ سے کھڑا ہو کر مسکراتے ہوئے بولا تو ابرش نے سر ہلایا۔ اگر برا نہ مانیں تو مجھے چائے بنا کر لا دیں گیں؟؟ مجھے اور اریش کو آپ کی ہاتھ کی چائے بہت پسند ہے مگر آپ نے صرف ایک دو بار ہی بنائی تھی سب کے لیے اور ہم دونوں میں ہمت تھی نہیں کہ آپ سے فرمائش کر کے بنوائیں۔ لیکن ابھی مجھے لگ رہا ہے کہ آپ بنا دیں گیں۔ بنا دیں گیں نہ؟؟ اس نے پہلے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر آخر میں تھوڑا سیریس ہو کر پوچھا۔
ہاں میں بنا دیتی ہوں مگر مجھے لگتا ہے تم اریش کو بہت یاد کرتے ہو تبھی اس کا ہر بات پر زکر کر رہے ہو ۔ تم اسے کال کیوں نہیں کرتے؟؟ اس نے اب کی بار اسے دیکھتے کہا کیونکہ اس نے نوٹ کیا تھا کہ جب سے اریش گئی تھی وہ بات بات پر اس کا زکر کرتا تھا۔
یاد تو بہت آتی ہے اس کی حلانکہ اس سے روز تین سے چار بار بات کر لیتا ہوں مگر پھر بھی دل اداس رہتا ہے کیونکہ وہ میرے پاس نہیں ہے نہ۔ وہ تھوڑا اداس ہوا۔ میں چائے بنا کر لاتی ہوں تم فریش ہو جاؤ۔ زابر کی باتیں سن کر اسے برا لگا۔
اس لیے نہیں کہ وہ اریش کا زکر کر رہا تھا بلکہ اس لیے کہ اس کے لالا نے تو ایک بار بھی اسے کال نہیں کی تھی ایک بار بھی اس سے خیریت دریافت نہیں کی تھی۔ اس سے پہلے زابر اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے ا ندر کا حال جانتا وہ چائے بنا کر لانے کا بہانہ بناتی وہاں سے چلی گئی جبکہ زابر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تاکہ اپنے کپڑے نکال سکے۔
* * *
آئی مس یو زاری آئی ریلی مس یو۔ وہ گھر سے نکل کر مین سڑک کی جانب بڑھتی روتے ہوئے بولی کیونکہ اسے اس پل زاری واقع شدت سے یاد آرہا تھا۔۔ وہ تو اسے کبھی دوسری گلی میں دوست کے گھر بھی اکیلے نہیں جانے دیتا تھا اور زیام کو تو اس کی فکر بھی نہیں تھی۔
کل بھی وہ جس طرح ڈر ڈر کر آئی تھی وہی جانتی تھی۔ وہ یوں ہی روتے ہوئے چلتی مین سڑک تک پہنچ گئی تھی۔ اس نے اپنے انسوں کو صاف کرتے اپنے سر پر اوڑھا ڈوپٹہ اور کندھوں کے گرد لپٹی چادر سہی کی اور پھر ایدھر اودھر نظریں گھما کر رکشہ یاں ٹیکسی ڈھونڈنے چاہے۔
وہ ایسے ہی سڑک پر دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر سڑک پر اپنی بال کو پکڑنے آئے تین سے چار سال کے بچے پر گئی۔ چلتی ٹریفک میں اس بچے کو یوں سڑک پر دیکھ اریش کا دل دہلا۔ وہ بچہ بھی اپنی بال اٹھانے کے بعد اپنے ارد گرد گاڑیوں کو سیڈ سے چلتا دیکھ ڈر کر رونے لگا۔
اریش نے پہلے ایدھر ادُھر دیکھا کہ شاید کوئی اس بچے کو بچائے مگر کسی کو بھی مدد کے لیے آتے نہ دیکھ وہ اپنا بیگ وہیں فٹ پاتھ پر پھینکتے اس بچے کی جانب بڑھی۔ تیزی سے بھاگ کر وہ بچے کے پاس پہنچ اسے اٹھاتی فٹ پاتھ پر لے آئی تھی۔ کیا تم ٹھیک ہو؟؟ اس نے نیچے بیٹھ کر اس بچے کو سینے سے لگا کر پوچھا۔
سعدی کیا تم ٹھیک ہو؟؟ اس کے پوچھنے پر بچہ کچھ نہ بولا بس ڈر کے ما رے روتا رہا۔ وہ پھر سے بچے سے پوچھنے والی تھی کہ کسی کی پریشان آواز کانوں سے ٹکرائی۔ کیا یہ بچہ آپ کا ہے؟؟ اس نے اپنے پاس کھڑے ہونے والے آدمی سے پوچھا جس نے سر پر کیپ لے رکھی تھی اور منہ پر بلیک ماسک لگا رکھا تھا۔
جی یہ میرا بھتیجا ہے۔ آپ کا شکریہ ا سے بچانے کے لیے۔ ابكچلی میں بینک گیا تھا اور اسے گاڑی میں بیٹھایا تھا بٹ یہ گاڑی سے نکل گیا۔ سامنے والا بچے کو گود میں اٹھا کر شرمندگی سے بولا۔ اٹس اوکے پر اگلی بار احتیاط کریے گا۔ ویسے آپ کو پتا ہے آپ کی آواز میرے فیورٹ سنگر ارمغان سے ملتی ہے۔ وہ مسکر اتے ہوئے بولی تو سامنے والا اس کی بات پر چونکا اور پھر شاید وہ مسکرایا تھا۔ وہ اس لیے کیونکہ میں ارمغان ہی ہوں۔ اس آدمی نے چہرے سے ماسک اتار کر کہا تو اریش کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ا۔۔ار۔۔ارمغان شاہ؟؟ اسے یقین نہ آیا جبکہ اس کے حیرت بھرے ایکسپر یشن دیکھ ارمغان کو ہسی آئی۔
جی میں ہی ہوں ارمغان شاہ۔ کوئی شک؟؟ وہ ہس کر بولا۔ ن۔۔نہیں نہیں کوئی شک نہیں لیکن آپ ماسک لگا لیں کہیں کسی نے پہچان لیا تو آپ کو مشکل ہو گی۔ وہ فکرمندی سے بولی تو ارمغان اس پیاری لڑکی کی فکر پر مسکرایا۔ میں جاوں یاں تمہیں کوئی سيلفی یاں آٹو گراف لینا ہے؟؟ ارمغان نے ماسک واپس لگاتے پوچھا۔
ہاں نہ آپ مجھے آٹو گراف بھی دیں اور سيلفی بھی لوں گی۔ وہ ایکسائیٹڈ سی بولی جس پر وہ مسکرایا۔ تم میری پہلی فین ہو جس سے مل کر مجھے دلی خوشی ہوئی اور امید کرتا ہوں پھر ملیں گے۔ وہ سيل فی لے کر اسے موبائل واپس پکراتا بولا۔ ضرور ضرور انشاللہ۔
وہ اپنی ڈائری اور پین بیگ سے نکال کر اسے دیتی بولی۔ ویسے تم مجھے سٹوڈنٹ لگ رہی ہو۔ کس یونی میں پڑھتی ہو؟؟ وہ آٹوگراف دیتا پوچھنے لگا۔ ہاں نہ میں۔۔۔۔ یونی کی سٹوڈنٹ ہوں اور ابھی یہاں یونی جانے کے لیے ٹیکسی یاں رکشہ ڈھونڈ رہی ہوں مگر مل نہیں رہا۔
وہ ڈائری بیگ میں ڈالتی یونی کا نام بتاتی بولی۔ میں چھوڈ آؤں میرے بھتیجے کی جان بچانے کے شکریہ کے طور پر۔ وہ ہاتھ میں پکڑے پین کو انگلیوں پر گھماتا بولا۔ ویسے میں کسی غیر کے ساتھ کہیں نہیں جاتی لنکی ابھی مجھے کوئی ٹیکسی اور رکشہ نہیں مل رہا اور پھر آپ ہو بھی ارمغان شاہ جس پر میں ٹرسٹ کر سکتی ہوں اس لیے میں آپ کی آفر قبول کرتی ہوں۔
وہ تھوڑا ے ے بولی۔ اوکے چلو آؤ میں چھوڈ دیتا ہوں تمہیں اور یہ لو اپنا پین۔ وہ اس کا پین اس کی جانب بڑھاتا بولا۔ نہیں یہ آپ رکھ لیں اپنی فین کی طرف سے تحفہ سمجھ کر۔ وہ کیوٹ سمائل سے بولی تو ارمغان کو اس کی مسکراہٹ پر دل الگ انداز میں دھڑکتا محسوس ہوا۔
* * *
وہ اپنی نید پوری کرنے کے بعد فریش ہو کر کمرے سے نکلا تو چار کرسیوں والے ڈا ئنگ ٹیبل پر ناشتہ رکھا دیکھ ٹیبل کے پاس گیا۔ دو لوگوں کے لیے بنایا گیا ناشتہ جوں کا توں پڑا تھا۔ اسے یاد آیا کہ صبح اس نے اریش سے کس قدر روڈ ہو کر بات کی تھی۔
افف زیام تم کیوں ہو ایسے؟؟ اس نے ماتھے پر ہاتھ مارتے خود سے کہا۔ اسے سچ میں برا لگا تھا کہ اس نے اریش سے سے روڈ ہو کر بات کی۔ چلو گھر آئے گی تو معافی مانگ لوں گا۔
وہ دل ہی دل میں بولا اور چئر کو سیٹ کرتا بیٹھ گیا۔ ٹھنڈا ہو گیا ہے ناشتہ مگر کوئی نہیں کھا لیتا ہوں رزق ضائع نہیں کرتے۔ وہ آملیٹ کی پلیٹ اپنے سامنے رکھتا بولا اور ہاٹ پاٹ سے پراٹھا نکال کر کھانا شروع کر گیا۔
وہ آج بھی کلاس میں بور ہو رہی تھی کیونکہ کسی بھی لڑکی نے اس سے بات نہیں کی تھی اور نہ ہی اس نے کسی سے بات کی تھی۔ کچھ لڑکوں نے تو اس کے پاس آکر بہت ہیلو ہائے کی کوشش کی مگر اس نے ان کی جانب دیکھا بھی نہیں تھا۔
کیا میں یہا ں بیٹھ جاؤں؟؟ وہ موبائل یوز کر رہی تھی جب کسی کی میٹھی اور باریک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ اس نے چہرہ اوپر کرتے دیکھا تو ایک سانولے رنگ مگر پرکشش نین بکس والی لڑکی بلیک حجاب اور گرے فراک میں اس کے پاس کھڑی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔ جی بیٹھ جائیں۔ اریش تھوڑا سا دوسری طرف کھسکتی مسکرا کر بولی اور وہ لڑکی اس کی بنائی گئی جگہ پر بیٹھ گئی۔ شکریہ! ویسے میرا نام نور ہے اور میرا یہاں فرسٹ ڈے ہے۔ میں پہلے کراچی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی مگر میری فیملی یہاں شفٹ ہو گئی تو پھر مجھے یہاں پر آنا پڑا۔ وہ اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھاتی مسکراتے ہوئے اپنا انٹرو دینے لگی۔
مل کر خوشی ہوئی ویسے میں بھی یہاں نیو ہوں اور میرا دوسرا دن ہے یہاں میں لاہور سے آئی ہوں اور میرا نام اریش خان ہے۔ اسے وہ لڑکی اچھی لگی تبھی مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامتی اسے اپنا انٹرو بھی دے گیئ۔ جب ہم دونوں ہی نیو ہیں اور ایک دوسرے سے انٹرو بھی ہو گیا ہے تو کیوں نہ دوستیں بن جائیں۔ نور مسکرا کر بولی تو اریش نے ہس کر ہاں میں سر ہلایا کیوں نہیں ضرور ویسے آج کا دن میرے لیے بہت لکی ہے۔ پہلے میں اپنے فیورٹ آئیڈیل سے ملی اور اب مجھے ایک دوست مل گئی۔ پتا ہے مجھے یہاں پر دوست کی اشد ضرورت تھی کیونکہ اکیلی تو میں بور ہو رہی تھی۔ اریش نے اسے کہا۔ کونسا آئیڈیل؟؟ نور نے پوچھا۔ ارمغان شاہ اور کون۔ اریش نے خوشی سے بتایا تو نور نے اسے حیران ہو کر دیکھا۔ سچ بٹٹٹٹیيییٹ ہے۔ نور میں؟؟ واؤ یار کاش میں بھی کسی دن زیام خان سے مل سکوں کیونکہ وہ میرا فیوڑ دونوں ہاتھ گال پر رکھتی بولی تو اریش نے زیام کے نام پر منہ بگاڑا۔
مجھے نہیں پسند وہ۔ اریش نے کہا۔ ہمم سب کی اپنی اپنی پسند ہے خیر مجھے بتاؤ ارمغان شاہ کہاں ملا تمہیں اور کیا تم نے سيلفی اور آٹو گراف لیا اس سے؟؟ نور نے ایکسائیٹڈ ہو کر پوچھا۔ ارے میں تو یونی بھی اس کے ساتھ آئی ہوں۔ اریش اترا کر بولی۔
ہائے سچی؟؟ بتاؤ نہ مجھے بھی کہ کہاں ملا وہ تمہیں۔ نور کے پھر سے پوچھنے پر اریش اسے اپنی اور ارمغان کی ملاقات کے بارے میں بتانے لگی جبکہ نور بہت ایکسائیٹڈ ہو کر اسے سن رہی تھی۔
* * *
ہاں ہاں مجھے پتا ہے تم بہت ہوشیار ہو اسی لیے تمہیں کمپنی کا مینیجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔ وہ گھر کا دروازہ کھول کر اندر آتی بولی۔ کل کی طرح وہ آج بھی ٹیکسی سے واپس آئی تھی اور اس نے آج ٹیکسی گھبراتی رہی تھی۔
میں تمہیں ایک بات بتاؤں چوہیا۔ اس نے پوچھا۔ ہاں ہاں بتاؤ جلدی سے۔ وہ اپنا بیگ ڈائنگ ٹیبل پر رکھتی فرج کی جانب بڑھی جبکہ خالی ڈائنگ ٹیبل اور دھلے ہوئے برتنوں کو اس نے غور سے دیکھا تھا۔ اس مہینے کے آخر میں یاں پھر اگلے ماہ کے شروع میں تمہارا بھائی اسلام آباد آرہا ہے۔ وہ خوشی سے بولا تو اریش کی آنکھیں خوشی سے کھلیں۔
سچی؟؟ اس نے پوچھا۔ ہاں نہ سچی پورے ایک ہفتے کے لیے میں تمہارے پاس آؤں گا۔ اس نے بتایا جبکہ اریش سے تو انتظار کرنا ابھی سے مشکل ہوا۔ اتنی دیر سے کیوں آنا ہے؟؟ جلدی آجاؤ نہ۔ اس نے نروٹھے پن سے کہا۔ نہیں یار جلدی نہیں آسکتا کیونکہ میٹنگ ہی دیر سے ہے۔
ورنہ چئمیں بھی میٹنگ کے بہانے آرہا ہوں کمپنی کے سی ای او یعنی چاچو کی جگہ منر صاحب آفس سے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں دیتے۔ وہ ناک چڑھاتے بولا۔ چئمنر مطلب بابا؟؟ اس نے کنفرم کرنا چاہا۔ ہاں تو وہی تو ہیں چئمنر۔
خیر میں تمہیں بعد میں کال کرتا ہوں مجھے کچھ فائلز ریڈ کرنی ہیں اور ہاں مجھے یاد سے اپنی ارمغان شاہ کے ساتھ لی سيلفی اور آٹو گراف کی پک سینڈ کرنا۔ وہ سیکرٹری کو کچھ فائلز لے کر آتے دیکھ بولا۔ اوکے اوکے میں کر دوں گی سینڈ کیونکہ تمہیں ویسے تو یقین آئے گا نہیں۔ وہ ناک چڑھا کر بولتی کال کٹ کر گئی۔
اس نے فون ٹیبل پر رکھتے زیام کے کمرے کی جانب دیکھا جس کا دروازہ بند تھا۔ گھر کی خاموشی بتا رہی تھی کہ زیام گھر نہیں ہے اور اگر ہوتا بھی تب بھی اریش نے کونسا اس سے بات کرنی تھی۔
* * *
رات کے سات بج رہے تھے اور اریش نوڈلز کا بھرا ہوا پیالہ اپنی گود میں رکھے ایل سی ڈی پر کورین ڈرامہking the land دیکھ رہی تھی جب گھر کا دروازہ کھلا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے کوئی رینس نہ دیا اور ویسے ہی اپنے کام میں مگن رہی۔
کیسا رہا تمہارا آج کا دن؟؟ اس نے اریش کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا مگر اریش نے اس کے سوال پر کوئی رینس نہ دیا۔ اریش میں تم سے مخاطب ہوں۔ وہ اریش کے پاس کھڑا ہو کر بولا۔ اریش نے اس بار بھی اس کو کوئی جواب نہ دیا بلکہ اس بار تو وہ اپنے نوڈلز کا باؤل سامنے والے ٹیبل پر رکھتی کھڑی ہو گئی اور وہاں سے جانے لگی مگر زیام نے اس کی کلائی پکر کر اسے روکا۔ ناراض ہو؟؟ اس نے نرمی سے پوچھا۔ میں کیوں ناراض ہوں گی؟؟
اس نے بنا زیام کی جانب دیکھے کہا۔ سوری! اس نے شرمندگی سے کہا تو اریش حیران ہو کر اس کی جانب پلٹی۔ کیا کہا آپ نے ابھی؟؟ اس نے حیرانگی سے دیکھتے پوچھا۔ سوری ایم رئیلی سوری! مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا تم سے۔ وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے بولا تو اریش کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ آئی۔
کتنا آسان ہے نہ کسی کا دل دکھا کر کسی کو رلا کر بعد میں اسے سوری کر دینا۔ کیا آپ کے سوری کرنے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟؟ آپ نے مجھے مصیبت کہا آپ نے کہا کہ بی جان نے آپ کے سر پر مصیبت ڈا ل دی ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے میں خوشی خوشی آپ کے سر پر مسلط ہوئی ہوں؟؟ ارے اتنا تو آپ کو غم نہیں ہو گا اس شادی پر جتنا مجھے ہے۔ میری ساری زندگی برباد ہو گئی ہے اس شادی سے۔ چاہے ہم لوگوں کا ڈیوس ہو جائے گا آپ اپنی زندگی میں مگن ہو جاؤ گے کیونکہ آپ کو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپ مرد ہو لیکن میری زندگی تب بھی آسان نہیں ہو گی کیونکہ میں ایک عورت ہوں۔
ایک طلاق یافتہ عورت کا ٹیگ میرے ماتھے پر لگ جائے گا اور پھر میرے لیے کوئی اچھا رشتہ قسمت سے ہی آئے گا۔ میری زندگی تو ہو گئی نہ برباد اس شادی سے۔ میں کس پر اپنا غصہ اتاروں میں کسے بتاؤں کہ میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتی ہوں۔
بی جان نے میری زندگی برباد کر دی سب بڑوں نے زندگی برباد کر دی میری۔ سب کی لاڈلی اب بوجھ اور مصیبت بن گئی ہے۔ بڑوں نے مجھے وہاں نہیں رہنے دیا اور یہاں مجھے طعنے سن سن کر رہنا پڑ رہا ہے ۔ مجھے بتائیں میں کہاں جاؤں بتائیں نہ کہاں جاؤں میں؟؟؟
وہ بات کرتے کرتے رونا شروع کر چکی تھی جبکہ اس کے بیان کا انداز ایسا تھا کہ زیام کا دل بھی دکھا تھا اور اس نے اس کی پکڑی کلائی سے اسے اپنی جانب کھینچا جس سے وہ اس کے سینے سے جا لگی۔ مجھے معاف کرنا میں نے تمہیں بہت زیادہ ہرٹ کر دیا مجھے بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ تم بھی اسی ئ میں ہو۔ سوری اریش رئیلی سوری میں وعدہ کرتا ہوں دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔
سیجوئوہ اس کے گرد اپنا بازو ہائیل کرتے ہوئے بولتا اریش کے رونے میں اور تیزی لے آیا تھا۔ وہ زیام کے سینے سے لگ کر جتنا ہو سکا اتنا کھل کر روئی تھی اور زیام نے بھی اسے نہیں روکا تھا۔ چلو بس کر دو نہ افلاطون اور کتنا رو گی میری نیو شرٹ بھی خراب کر دی تم نے تو رو کر۔ جب کافی دیر بعد بھی وہ چپ نہ کی تو زیام نے مزاح بھرے انداز میں کہا جس پر وہ تھوڑی شرمندہ ہوتی اس سے دور ہوئی۔ سوری! وہ پلکیں جھکائے بولی۔ دوستی کر لیں؟؟ زیام نے اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتے کہا تو اریش نے پلکیں اٹھائیں۔ مطلب؟؟ اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔ مطلب کہ جب تک ہم ساتھ ہیں چلو دوست بن کر رہتے ہیں اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں طلاق کے بعد میں خود ایک اچھا لڑکا ڈھونڈ کر تمہاری اس سے شادی کرواؤں گا اگر تم کسی کو پسند کرو گی تو بھی میں ایک اچھے دوست کی طرح تم دونوں کو ملانے میں مدد کروں گا۔
تو بولو کرو گی دوستی؟؟ وہ مسکراتے ہوئے کہتا آخر میں اپنا ہاتھ آگے کر گیا۔ ڈانٹیں گے بھی نہیں؟؟ اریش نے معصومیت سے پوچھا تو زیام کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ ہاں ڈانٹوں گا بھی نہیں۔ ٹھیک ہے پھر ہم دوست بن جاتے ہیں اور میں آپ کو اس بار معاف کر دیتی ہوں۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ گئی جبکہ روئی ہوئی آنکھوں کے ساتھ چہرے پر بکھری مسکراہٹ نے خوبصورتی کو اور بڑھایا تھا۔ ہستی رہا کرو ہسی اس کی ے ہوئے اچھی لگتی ہو۔ وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولا تو اریش نے زور و شور سے ہاں میں سر ہلایا۔
* * *
سب لوگ کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے اور اپنا اپنا کھانا انجوائے کر رہے تھے۔ بیگم زرا مجھے سالن پاس کرنا۔ احسان صاحب نے نوشہ بیگم سے کہا تو انہوں نے فوراً سے اپنے سامنے پڑا سالن کا برتن ان کے سامنے کیا اور خود ہی ان کی پلیٹ میں سالن ڈالنے لگیں۔
زابر نے سامنے دیکھا تو احسان خان نوشہ بیگم کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے جبکہ ان کے ایسے دیکھنے پر نوشہ بیگم شرما کر چہرہ جھکا گئی تھیں۔ ان دونوں کو ایسے دیکھ کر زابر کی آنکھیں شرارت سے چمکیں تھیں۔ چاچو! اس نے بڑی محبت سے انہیں پکارا۔ جی بیٹا! ڈبل محبت سے جواب آیا۔ آپ کیوں اتنے کیوٹ ہیں؟؟
آپ کی یہ مسکراہٹ کیوں اتنی کیوٹ ہے؟؟ اس نے ٹیبل پر دونوں بازوں کی کہنیاں ٹکا کر انہیں دیکھتے پوچھا تو سب لوگ اپنا کھانا چھوڈ کر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئے۔ تمہیں آج مجھ پر اتنا پیار کیوں آ رہا ہے؟؟ احسان صاحب نے ہس کر پوچھا تو زابر کی مسکراہٹ میں شیطانی پن آیا۔ مجھے نہیں آرہا آپ پر پیار وہ تو آپ کی سیکرٹری کو آرہا تھا۔ مجھ سے آکر کہہ رہی تھی کہ سر آپ کے چاچو بہت کیوٹ ہیں اور ان کی سمائل کی تو کیا ہی بات ہے۔ میں تو بس پوچھنا چاہتا تھا کہ آپ کیوں اس سے اتنا مسکرا کر بات کرتے ہیں آپ کو اپنی مسکراہٹ میری پیاری چاچی تک محدود رکھنی چاہیے۔ وہ تیلی لگانے والے انداز میں بولتا پھاپھ کٹنی کا کردار ادا کر گیا تھا۔ اس کی بات پر جہاں احسان صاحب کے ساتھ سب لوگوں نے ناسمجھی سے زابر کو دیکھا تھا وہیں نوشہ بیگم نے خطرناک ارادوں سے احسان خان کی جانب دیکھا تھا۔ کیا زابر سچ کہہ رہا ہے خان جی؟؟ انہوں نے غصے اور چيلسی سے ملی جلی کیفیت سے پوچھا۔
ن۔۔نہیں بیگم جی ایسا کچھ نہیں ہے ی۔۔یہ ایسے ہی بکواس کر رہا ہے۔ میری تو کوئی سیکرٹر ی ہے ہی نہیں۔ انہوں نے گھبرا کر کہا مگر نوشہ بیگم کو ان پر یقین نہ آیا۔ زابر یہ کیا بدتمیزی ہے بتاؤ اپنی چاچی کو کہ تم بکواس کر رہے ہو۔ عدنان خان نے زابر کو گھورتے ہوئے کہا۔ ہاں زابر یار نہ کرو میرے ساتھ ایسے تمہاری چاچی کی تو ناراضگی بھی جلدی ختم نہیں ہوتی۔
احسان خان بھی ترلے کرنے والے انداز میں بولے۔ ابكچلی چاچی آپ کے شوہر سچ کہہ رہے ہیں ان کی کوئی سیکرٹری نہیں ہے۔ وہ تو آپ دونوں کو مینا میٹھو کی طرح بیٹھا دیکھ کر مجھے آپ لوگوں کا پیار ہضم نہیں ہو رہا تھا اس لیے میں نے تیلی لگا دی۔ ویسے سیکرٹری آئی تھی میرے پاس مگر میرے خواب میں ۔
وہ اپنے دانت دیکھاتا بولا تو نوشہ بیگم نے پہلے احسان صاحب کو ناراض نظروں سے دیکھا اور پھر ہس پڑیں۔ وہ کون سا دن ہو گا جب تم سکون سے بیٹھو گے۔ بیٹھے بیٹھے تمہیں پتا نہیں کون کون سے دوڑے اٹھتے رہتے ہیں۔ زابر کے ساتھ بیٹھی ابرش نے تاسف سے اسے دیکھتے کہا۔ یہ کون سا طریقہ ہے اپنے شوہر سے بات کرنے کا؟؟
شوہر ہے وہ تمہارا عزت سے بات کیا کرو اس سے آپ کہا کرو اسے۔ بی جان جو چپ چاپ تب سے بیٹھیں مسکراتے ہوئے زابر کی لگائی تیلی کا ری ایکشن دیکھ رہی تھیں ابرش کے زابر کو تم کہہ کر بلانے پر ابرش کو گھورتے ہوئے بولیں۔ بی جان کے ڈانٹنے پر ابرش نے سر جھکا لیا جبکہ زابر بی جان کی جانب دیکھنے لگا۔
اوہو بی جان کچھ نہیں ہوتا اگر وہ مجھے تم کہہ دیں تو۔ میں ان سے چھوٹا ہوں تو وہ مجھے تم کہہ سکتی ہیں۔ عزت دل میں ہونی چاہے الفاظ میں کیا رکھا ہے۔ مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے ان کے مجھے تم کہنے سے۔ وہ بی جان سے کہتا آخر میں ابرش کی جانب دیکھ کر مسکرایا جبکہ اس کے یوں اپنی سائیڈ لینے پر ابرش اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
آج کل کے بچوں کو بس بڑوں کے سامنے زبان چلانی ہوتی ہے۔ جو مرضی کرو میں اب کچھ نہیں کہوں گی تم دونوں کو۔ جب تمہیں کوئی مسلہ نہیں ہے تو میں کون ہوتی ہوں اعتراض کرنے والی۔ بی جان اپنی جان چھوڈانے والے انداز میں بولیں تو سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔